جــرائــم و حــادثــات

   

خواتین پر مظالم اور چھیڑچھاڑ پر پولیس کے دعوے کھوکھلے ثابت
کلینک پر کام کرنے والی لڑکی ہراسانی کی شکایت پر بنجارہ ہلز پولیس کی عدم کارروائی

حیدرآباد ۔ 29 اگست (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں خواتین اور لڑکیوں پر مظالم کے خلاف پولیس کی کارروائیاں صرف زبانی ثابت ہورہی ہیں اور سخت کارروائی کے دعوے بے بنیاد دکھائی دے رہے ہیں چونکہ ایک ڈاکٹر کے کلینک میں کام کرنے والی لڑکی کی شکایت محض کاغذی اقدام تک محدود ہوگئی ہے۔ نوجوان لڑکی کی شکایت پر کارروائی کے بجائے پولیس ٹال مٹول کررہی ہے اور پولیس بنجارہ ہلز پر خاطی شخص سے مبینہ سازباز اور سیاسی دباؤ کے سبب کارروائی نہ کرنے کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق شکایت گزار لڑکی بنجارہ ہلز میں واقع ایک کلینک میں کام کرتی تھی۔ لڑکی نے کلینک میں کام کرنے والے شخص جو ڈاکٹر کا دوست ہوا کرتا تھا، اس کی ہراسانی سے تنگ آچکی تھی اور اس نے ملازمت چھوڑ دی تھی۔ جب ڈاکٹر نے لڑکی سے وجہ پوچھی تو اس نے اس پاپی شخص کے متعلق ڈاکٹر کو بتایا کہ وہ کس طرح لڑکی کے ساتھ دست درازی کرتا ہے۔ کلینک پر جھوٹی بات پر لڑکی کو اپنے پاس بلانا یا پھر اس کے قریب جانا اس کے جسم کو چھونا اور ناقابل بیان انداز میں جسم کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگانا اس نے لڑکی کا جینا مشکل کردیا تھا۔ جب ڈاکٹر نے اپنے ساتھی سے جو کلینک میں کام کرتا تھا، اس سے وضاحت پوچھی تو اس شخص نے ڈاکٹر کے خلاف مارپیٹ کا الزام لگاتے ہوئے شکایت کردی جس کے بعد لڑکی نے بھی جو اس وقت تک خاموش تھی، پولیس میں شکایت کردی لیکن پولیس اس لڑکی کی شکایت پر کارروائی، تحقیقات اور پوچھ گچھ کے بجائے کارروائی سے گریز کرنے کے الزامات کا سامنا کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ اب لڑکی کا کوئی پتہ نہیں لڑکی جو یوسف گوڑہ علاقہ میں رہتی تھی، اس سے رابطہ مشکل ہوگیا ہے۔ اگر پولیس بنجارہ ہلز اپنی ذمہ داری سے وقت پر اقدام کرتی تو شاید لڑکی کے ساتھ انصاف ہوجاتا اور اس سنگین الزامات کا خلاصہ ہوجاتا۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ ایسی لاپرواہی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پولیس عہدیداروں کو پابند کریں اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔ع

نوجوانوں اور کم عمر بچوں میں گانجہ کے چاکلیٹ فروخت کرنے والا بہاری جوڑا گرفتار
حیدرآباد ۔ 29 اگست (سیاست نیوز) شاہ میر پیٹ پولیس نے نوجوان نسل اور کم عمر بچوں میں گانجہ کے چاکلیٹ فروخت کرنے والے بہاری جوڑے کو بے نقاب کردیا جو پان کی آڑ میں گانجہ کے چاکلیٹ فروخت کررہا تھا۔ خفیہ اطلاع پر شاہ میر پیٹ پولیس نے دھاوا کرتے ہوئے بائدیاناتھ کو حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان میاں بیوی کے قبضہ سے کثیر مقدار میں گانجہ کے چاکلیٹ ضبط کرلیا گیا۔ شاہ میر پیٹ کے علاقہ میں پان شاپ چلانے والے شخص بائدیا ناتھ اور اس کی بیوی پجاری بہار سے حیدرآباد آئے تھے اور یہاں پان شاپ لگا کر زندگی کا گذر برسر کررہے تھے۔ غیرقانونی طور پر پیسہ کمانے کی خاطر انہوں نے گانجہ کے چاکلیٹ فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا اور گانجہ کے چاکلیٹ فروخت کرنے لگے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان نسل ہی اصل گراہک ہیں جبکہ میاں بیوی کم عمر لڑکوں کو بھی یہ چاکلیٹ فروخت کررہے تھے۔ پولیس نے ان کے قبضہ سے 25 کیلو گرام پر مشتمل 5,298 گانجہ کے چاکلیٹ کو ضبط کرلیا ۔ اس کارروائی کے بعد پولیس نے آس پاس کے علاقوں میں واقع کالجس اور اسکولس کے قریب چوکسی بڑھادی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ع

سی آر پی ایف سے وابستگی ظاہر کرکے شہری کو لوٹنے والا شخص گرفتار
حیدرآباد۔ 29 اگست (سیاست نیوز) سنٹرل ریزرو پولیس فورس سے وابستگی ظاہر کرتے ہوئے ایک شہری کو لوٹنے والے سائبر دھوکہ باز کو پولیس کنچن باغ نے گرفتار کرلیا۔ شکایت گذار سید فراست حسینی کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گولو بیراوا ساکن مدھیہ پردیش کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق گولو بیرادا نے اپنی شناخت سمت کمار سی آر پی ایف کی حیثیت سے ظاہر کرتے ہوئے شکایت گذار سے رجوع ہوا اور غریب عوام کو فرنیچر فراہم کرنے کے نام پر یقین دلاتے ہوئے 95 ہزار روپے عطیہ کے طور پر حاصل کرلیا۔ شکایت کے بعد پولیس نے تحقیقات کو انجام دیا۔ دھوکہ باز کی مدھیہ پردیش اور راجستھان میں موجودگی کا پتہ لگایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجندر نگر زون نے ایک خصوصی ٹیم کو تشکیل دیا اور ملزم کی گرفتاری کے لئے روانہ کیا۔ پولیس کے مطابق خصوصی ٹیم جو ملزم کے تعاقب میں تھی مقامی پولیس کی مدد سے اس کی موجودگی کا پتہ لگایا اور اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ رقم نکالنے کے لئے بینک سے رجوع ہوا تھا۔ پولیس نے عوام سے چوکنا رہنے کی درخواست کی ہے۔ ع؍F

پی جی نیٹ امتحان سے ایک دن قبل ایم بی بی ایس لڑکی کی خودکشی
حیدرآباد ۔ 29 اگست (سیاست نیوز) شہر میں ایک ڈاکٹر لڑکی کی خودکشی کا واقعہ پیش آیا۔ ایم بی بی ایس لڑکی جو پی جی نیٹ کی تیاری میں تھی، امتحان سے ایک دن قبل خودکشی کرلی۔ اس لڑکی کی شناخت شیویتا کی حیثیت سے کرلی گئی جو آر ٹی سی چوراہے کے قریب ایک ہاسٹل میں رہتی تھی ۔ شیویتا کا تعلق کرنول سے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لڑکی 8 ماہ قبل حیدرآباد میںپی جی نیٹ کی تیاری کیلئے آئی تھی۔ اتوار 30 اگست کو امتحان کے پیش نظر شیویتا شدید دلبرداشتہ ہوگئی اور نامعلوم زہریلی دوا کا استعمال کرتے ہوئے خودکشی کرلی۔ لڑکی کرنول کے ایک معروف تاجر کی اکلوتی بیٹی بتائی گئی ہے۔ پولیس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرکے مصروف تحقیقات ہے۔ع