نئی دہلی، 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی مسلمانوں کی سرکردہ تنظیم جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ حکومت کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ان کے لئے قومی مفادات سب سے اوپر ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت ملک کے اتحاد کو مضبوط بنانے میں آگے بڑھ کر کام کیا ہے ۔جمعیت علمائے ہند کے ساتھ کئی مسلم تنظیموں نے ہفتہ کو یہاں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور ملک اور خاص طور پر مسلم کمیونٹی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال۔ جمعیت کی جانب سے جاری بیان میں مسٹر مدنی نے کہا کہ کچھ معاملات پر حکومت کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن قومی مفاد کے ایشوز پر جمعیت ہمیشہ حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ مسلم تنظیموں نے ملک بھر میں این آر سی اور غیر قانونی سرگرمی روک تھام ترمیم قانون (یواے پي اے ) جیسے دیگر ایشوز پر اپنے خدشات کا وزیر داخلہ کے سامنے اٹھایا۔مسٹر مدنی کے مطابق مسٹر شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا لیکن گھس پیٹھیوں کے لئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹاناکشمیر کے لوگوں کے مفاد میں ہے ۔ آرٹیکل 370 سے کشمیر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا تھا۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے وادی میں افواہ پھیلا کر امن و امان ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے موبائل سروسز کو بند رکھا گیا ہے ۔بیان کے مطابق مسٹر شاہ نے کہا کہ این آرسي کو لے کر مسلمانوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ گھس پیٹھئے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں لہذاان کے خلاف کارروائی میں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یواے پي اے قانون کا کسی بھی طرح سے غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔مسٹر شاہ کے ساتھ ملاقات کے دوران جمعیت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری، جمعیت اہل حدیث ہند کے سربراہ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی سمیت دیگر تنظیموں کے سربراہ موجود تھے ۔قابل غور ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے حال ہی میں ایک تجویز پاس کر کے کہا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور تمام کشمیری ہمارے ہم وطن ہیں۔ کوئی بھی علیحدگی پسند تحریک نہ صرف ملک کے لئے بلکہ کشمیریوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے ۔