جموں و کشمیر کی معیشت کی بحالی کیلئے 1350 کروڑروپئے پیکیج کا اعلان

,

   

تجارتی شعبہ سے وابستہ تمام قرض داروں کو 6 ماہ تک سود میں 5% سبسڈی کا فیصلہ : لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا
سری نگر: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے یونین ٹریٹری کی تباہ حال معیشت کی بحالی کیلئے 1350 کروڑ روپے کے مالی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے اور کہا کہ مقررہ وقت پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آتما نربھر بھارت ابھیان کے تحت اس سے بھی بڑا اعلان ہونے والا ہے۔ منوج سنہا نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو راج بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا, جس کا انہوں نے آغاز بھی اردو زبان کے ایک شعر سے کیا اور اختتام بھی اردو زبان کے ایک شعر سے ہی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘جموں و کشمیر میں بلا کسی تفریق کے تجارتی شعبہ سے وابستہ تمام قرض داروں کو چھ ماہ تک سود میں 5%سبسیڈی دی جائے گی جس پر 950 کروڑ روپے خرچ ہوں گے اور اس سے لاکھوں بے روزگاروں کو روز گار بھی ملے گا’۔منوج سنہا نے کہا کہ یونین ٹریٹری میں ایک سال کے لئے بجلی اور پانی کی بلوں میں 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ جموں و کشمیر میں ایک سال کے لئے بجلی اور پانی کی بلوں میں جو پچاس فیصد رعایت دی جائے گی جس پر 105 کروڑ روپے کا خرچہ آئے گا اور یہ رعایت بھی سب کے لئے ہوگی خواہ وہ کسان ہوں یا تاجر ہوں یا کوئی اور’۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ‘ مشکلات سے دوچار ٹرانسپورٹروں، ہاؤس بوٹ مالکان، شکارہ والوں وغیرہ کی مالی مدد کے لئے ایک منظم میکانزم تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘کورونا کی وجہ سے مشکلات میں پھنسے ڈرائیوروں، آٹو ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں، شکارہ والوں، ہاؤس بوٹ مالکان، ٹورسٹ گائیڈس، گھوڑے والوں وغیرہ کی مالی معاونت کے لئے ایک منظم میکانزم بنایا جا رہا ہے’۔منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر بینک شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں کی مالی مدد کے لئے ‘کسٹمائزڈ ہیلپ ٹورزم اسکیم بھی متعارف کرے گا۔ انہوں نے کہا دستکاروں کے لئے کریڈٹ کارڈ کی حد کو ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کیا جائے گا اور انہیں بھی سود میں 7 فیصد رعایت دی جائے گی تاکہ دنیا میں مشہور کشمیری دست کاری کو مزید فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لینڈ بینک بھی بنایا جا رہا ہے جس کی فوڈ پارک کے لئے اراضی بھی فراہم کی جائے گی اور مدد بھی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بینک یکم اکتوبر سے یوتھ اور وومن انٹرپرائزرز کے لئے ایک اسپیشل ڈیسک کا قیام عمل میں لائے گا جس کے تحت ان کی پوری مدد کی جائے گی۔ منوج سنہا نے کہا کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کے لئے ایک نئی انڈسٹریل پالیسی بنا رہی ہے جس کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے نہ صرف پہلے سے ہی موجود چھوٹے بڑے کارخانوں کو مدد ملے گی بلکہ نئی کمپنیاں قائم کرنے والوں کے لئے بھی یہ پالیسی فائدہ بخش ہوگی۔ انہوں نے بشیر بدر کے شعر:’’ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے۔ جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا‘‘ سے آغاز کیا اور: ’’بہت لمبا ہے سفر ابھی بہت دُور جانا ہے ۔گر چلتے رہے تو پاس ہی منزل کا ٹھکانہ ہے‘‘ پر اختتام کیا۔