’جمہوریت میں سوالوں کے جواب دینا ضروری ہوتا ہے‘

   

کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں صدر کانگریس کھرگے کا ترنگا لہرانے کے بعد خطاب، سونیا اور راہول گاندھی کی شرکت

نئی دہلی۔ 15 اگست (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے یومِ آزادی پر ہفتہ کے روز کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں ترنگا لہرایا اور کہا کہ جمہوریت میں عوام کی آواز سننا اور سوالوں کے جواب دینا ضروری ہوتا ہے ۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہول گاندھی اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈروں اور عہدیداروں کی موجودگی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ آج کا دن صرف آزادی کی جدوجہد کی تاریخ کو یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ یہ پوچھنے کا بھی موقع ہے کہ مجاہدین آزادی نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، وہ کتنا پورا ہوا ہے ۔ کانگریس کی 141 سالہ تاریخ میں 62 سال غیر ملکی حکومت کے خلاف جدوجہد میں گزرے اور اس آزادی کے لیے لاکھوں لوگوں نے ایثار اور قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی روایت رہی ہے کہ اس کے دورِ حکومت میں تمام وزرائے اعظم نے ملک کو آگے بڑھایا اور اگلے ہندوستان کی مضبوط بنیاد رکھی۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کی بنیاد رکھی، نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھائے اور ووٹنگ کی عمر 21 سے گھٹا کر 18 سال کی۔ مسٹر پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی حکومت نے ہندوستان کو عالمی معیشت سے جوڑا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں منریگا، حقِ تعلیم، حقِ معلومات، جنگلات کے حقوق اور غذائی تحفظ جیسے قوانین سے غریبوں اور کمزور طبقوں کے حقوق مضبوط اور یقینی ہوئے ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مجاہدین آزادی نے انگریزی حکومت سے نجات کے ساتھ غریبی، بے روزگاری، چھوت چھات، ناانصافی اور خوف سے آزادی کا بھی خواب دیکھا تھا لیکن آج کی صورت حال بہت پریشان کن ہے ۔ نوجوانوں کے خواب کچلے جا رہے ہیں اور اپنے خواب ٹوٹنے سے مایوس نوجوان ملک بھر میں تحریکیں چھیڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

یوم آزادی پر کھرگے اور راہول گاندھی کی اہل وطن کو مبارکباد
نئی دہلی، 15 اگست (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہول گاندھی نے یوم آزادی کے موقع پر اہل وطن کو دلی مبارکباد دی۔ دونوں لیڈروں نے جدوجہد آزادی کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہوئے ملک کی آزادی، آئین اور جمہوری قدروں کی حفاظت کے عزم کو دہرایا۔ کھرگے نے کہا کہ قومی تحریک میں اپنا سب کچھ قربان کرنے والے ان گنت مجاہدین آزادی کو ملک عاجزانہ خراج عقیدت پیش کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 79 سال کا سفر کامیابیوں، جدوجہد اور عزم کا سفر رہا ہے ۔ ملک نے بہت کچھ حاصل کیا ہے ، لیکن ایک ملک کے طور پر ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ آزادی صرف انگریز حکومت سے نجات نہیں، بلکہ آئین سے ملا وہ بھروسہ ہے ، جو ہر ہندوستانی کو مساوات، احترام، انصاف اور اپنی بات کہنے کا حق دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اور ہر شہری کا سب سے مضبوط حفاظتی حصار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں آئینی قدروں، جمہوری اداروں اور سماجی ہم آہنگی کے سامنے کئی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو مواقع، کسانوں کو احترام اور انصاف نیز خواتین کو مساوی حقوق اور بااختیار شرکت ملنی چاہیے ۔ انہوں نے دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو آئین میں درج مساوات اور انصاف کا پورا حق دینے پر زور دیا۔

چار سال میں بھی انکیتا بھنڈاری کے والدین کو انصاف نہیں ملا :راہول گاندھی
نئی دہلی، 15 اگست (یواین آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے اتراکھنڈ کی انکیتا بھنڈاری کے والدین سے ملاقات کرکے ان سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ چار سال گزرنے کے باوجود خاندان بیٹی کیلئے انصاف کا انتظار کررہا ہے ۔راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ دو روز قبل انکیتا بھنڈاری کے خاندان سے ملے تھے اور ان کی تکلیف دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 19 سالہ انکیتا وننترا ریزورٹ میں ریسیپشنسٹ تھیں اور ایک وی آئی پی مہمان کی مانگ کی مخالفت پر انہیں قتل کردیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد اور ڈبونے کے شواہد ملے تھے ، لیکن تحقیقات سے قبل ہی ریزورٹ میں انکیتا کا کمرہ منہدم کردیا گیا، جس سے کئی سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں ریاستی حکومت اب بھی وی آئی پی کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور کہا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو انکیتا کو انصاف مل چکا ہوتا۔انہوں نے بی جے پی و آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سیاسی تحفظ دینے کی ذہنیت ختم ہونی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ آئین شہریوں کو پرامن تحریک کا حق دیتا ہے اس لیے اپنے حق کے لیے سڑکوں پر اترنا غداری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حق کی آواز اٹھانے والا جین زی غدارِ وطن نہیں ہے ۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن، عدلیہ، یونیورسٹیاں، جانچ ایجنسیاں اور میڈیا حکومت کے مداخلت کی زد میں ہیں، جس سے عوام کا اعتماد ڈگمگایا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ جمہوریت میں کیا یہ صحیح ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی طلبہ اور نوجوانوں پر ہوئی بربریت کو لے کر مسلسل سوال اٹھا رہے ہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ملک کی پارلیمنٹ میں ان سوالوں کا جواب دینے نہیں آئے ۔