جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو جنگ ختم کرنے مذاکرات کی پیشکش

   

سیول ۔ 15 اگست (ایجنسیز) جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو کوریائی جنگ کے باضابطہ خاتمہ کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا روس کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات مضبوط کر رہا ہے اور خود کو ایک جوہری ریاست قرار دیتا ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں کیونکہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کسی امن معاہدہ کے بجائے جنگ بندی کے معاہدہ پر ختم ہوئی تھی۔ صدر لی نے جاپانی نوآبادیاتی تسلط سے کوریا کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستوں کو ایک دوسرے کو دھمکانے کے ارادے ترک کرکے طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمہ کیلئے براہ راست مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اس عمل کے ذریعہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے موثر اقدامات پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ جون 2025 میں اقتدار سنبھالنے والے صدر لی نے شمالی کوریا کے حوالے سے اپنے پیش رو کی سخت گیر پالیسی تبدیل کرتے ہوئے پیونگ یانگ کو پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کی پیشکش کی۔ جنوبی کوریا کی موجودہ حکومت شمالی کوریا پر فوری طور پر جوہری ہتھیار ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے فی الحال اس کی جوہری سرگرمیوں میں مزید توسیع روکنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ تاہم شمالی کوریا نے اب تک صدر لی کی مذاکرات کی پیشکشوں کا جواب نہیں دیا۔
اس کے برعکس پیونگ یانگ نے حالیہ عرصہ میں روس کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کو فوجی اہلکار اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور اس کے بدلے ماسکو سے مالی معاونت، خوراک، توانائی اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن کے رواں سال کے آخر میں روس کے ممکنہ دورے کی بھی توقع ہے۔