Tuesday , October 22 2019

جوابی ایف ائی آر کے بعد مسلم فیملی گرگاؤں چھوڑ کر جانے کی تیاری کررہی ہے۔

گروگرام۔ مذکورہ فیملی جس پر ایک کرکٹ میاچ کی وجہہ سے پیدا ہوئی کشیدگی کے بعد 21مارچ کے روز ہجومی عمل کیاگیاتھا شہر چھوڑ کر جانے کی تیاری کررہی ہے ‘اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کی جانب سے جوابی ایف ائی آر درج کئے جانے کے بعد سے وہ خوف کا ماحول میں جی رہے ہیں۔

فیملی کے دولوگ جن کے خلاف ایف ائی آر درج کیاگیا ہے وہ محمد عابد اور عامر خان ہیں‘ دونوں کی عمر بیس سال کی ہے۔عابد خان دراصل محمد ساجد کا بھیتجہ ہے جس کو مبینہ طور پر ہجوم نے پیٹا تھا۔

جمعہ کے روز مذکورہ فیملی ممبرس نے شہر سے باہر چلے جانے کے لئے اپنا سامان باندھ لیاتھا مگر کشمیر پولیس گروگرام محمد وکیل سے ملاقات کے بعد اپنے اس پلان کو زیر التوا رکھا ہے

۔ساجد نے کہاکہ ’’ ہمیں معلوم ہے کہ میڈیا کے لوگوں کی جانب سے ہمارے خلاف ایک ایف ائی آر درج کرائی گئی ہے۔پولیس نے اب تک ہم سے کچھ نہیں کہا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم یہاں پر مسلسل رہیں تو ہم پر دوبارہ حملہ کیاجائے گا۔ ہم نے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا فیصلہ کیاہے۔

حملے کے بعد سے ہم خوف او رہراسانی کے عالم میں زندگی گذار رہے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کی فکر ہے جو اب بھی اس سانحہ سے باہر نہیں نکلے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہاکہ ’’ کم سے کم یہ حکومت ہم تک پہنچتی اور ہمارے آنسو پوچھتے مگر ایسا نہ تو چیف منسٹر کی طرف سے کیاگیا ہے او رنہ ہی انتظامیہ کے کسی شخص نے اب تک کیاہے۔

ہمیں انصاف ملنے کی امید نہیں ہے‘ اور اب ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے معاملے کی دیکھ بھال سی بی ائی کرے ۔

اس کے بعد ہی ہمیں انصاف ملنے کی توقع ہوگی‘‘۔ ٹی او ائی سے بات کرتے ہوئے پولیس کمشنر نے کہاکہ جہاں تک مذکورہ خاندان کی حفاظت کا معاملہ ہے تو اس پر سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔

محمد وکیل نے کہاکہ ’’ کچھ گھر والے ائے او رمجھ سے ملاقات کی ‘ او رمیں نے ان سے کہاکہ دونوں فریقین کو انصاف ملے گا۔ او رقانون اپنا کام کرے گا۔گھر کے باہر پولیس کی ایک ٹیم پہلے سے متعین کردی گئی ہے او رسادہ لباس میں بھی کچھ پولیس والوں کومتعین کیاگیا ہے۔

مذکورہ گھر والوں نے دوسری فریق سے با ت چیت پر آمدگی ظاہر کی ہے ۔ میں نے اس کے لئے ضلع انتظامیہ سے بات کی ہے‘‘

۔ساجد کے بڑے بھائی محمد اختر نے ٹی او ائی سے کہاکہ فیملی ممبرس پہلے ہی پولیس کمشنر سے ملاقات کرچکے ہیں۔ اختر نے کہاکہ ’’پولیس کمشنر نے ہماری حفاظت کو مکمل بھروسہ دلایا جس کے بعد ہم شہر چھوڑ کر جانے کے پلان کوزیر التوا ء رکھا ہے۔

تصادم کے دوران سر پر چوٹ لگنے کی وجہہ سے زخمی ہونے والے راج کمار کی سالی نے سنیتا نے کہاکہ ’’ پولیس نے بالآخر ہماری طرف سے اٹھائے گئے مسلئے پر غور کیا۔ مذکورہ فیملی کے کچھ ممبرس نے پہلے ہمارے بچوں کو حملہ کیا ‘‘۔

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT