چندرا بابو نائیڈواور پون کلیان کا اعلان، عوام کے سنہری مستقبل کا آغاز ہوگا
حیدرآباد۔/14 جنوری، ( سیاست نیوز) صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور 87 دن باقی رہ گئے ہیں۔ آندھرا پردیش میں جگن کی زیر قیادت ڈکٹیٹر حکمرانی کی جگہ امراوتی سے عوام کی بھلائی کی حکومت قائم ہوگی۔ چندرا بابو نائیڈو نے آج سنکرانتی کے موقع پر جنا سینا کے سربراہ پون کلیان کے ساتھ تقاریب میں حصہ لیا اور ریاست میں تلگودیشم ۔ جنا سینا حکومت کی تشکیل کی پیش قیاسی کی۔ انہوں نے کہا کہ تلگو عوام کو جگن موہن ریڈی حکومت سے نجات دلانا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے عوام جگن حکومت سے عاجز آچکے ہیں اور اقتدار کی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ صدر تلگودیشم نے کہا کہ عوام ایسی حکومت چاہتے ہیں جو ان کی بھلائی پر توجہ دے۔ راکھشس حکومت کے خاتمہ کیلئے محض 87 دن باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی تشدد، بدعنوانیاں، گمراہ کن وعدے، اقتدار کا بیجا استعمال اور غرور و تکبر کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جگن موہن ریڈی حکومت نے عوام کی بھلائی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے اسکامس کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ پون کلیان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلگودیشم اور جنا سینا برسراقتدار آتے ہی فلاحی اسکیمات پر عمل کرے گی اور مختلف خدمات پر حکومت سبسیڈی فراہم کرے گی۔ انتخابات سے قبل مشترکہ منشور جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت امراوتی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے عوام مخالف ہیں۔ وشاکھاپٹنم کو معاشی دارالحکومت میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ کرنول میں ہائی کورٹ کی بنچ قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جگن موہن ریڈی نے اپوزیشن کو جھوٹے مقدمات کے تحت جیلوں میں بند کیا ہے۔ تلگودیشم ۔ جنا سینا حکومت سے آندھرا پردیش میں سنہرے مستقبل کا آغاز ہوگا۔1