اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے قیدیوں کو ساتھ لے کر حملہ کرایا، کتابیں اور کپڑے پھینک دیئے
سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی درخواست
نئی دہلی : جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈنٹ اور جہدکار شرجیل امام جو 2020 ء کے دہلی فسادات کیس کے سلسلہ میں عدالتی تحویل میں ہیں، اُنھوں نے یہاں کی عدالت سے رجوع ہوکر الزام عائد کیا ہے کہ اندرون جیل اُنھیں زدوکوبی اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ اُنھوں نے اپنی جان کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے تحفظ کے سلسلہ میں عدالت
سے ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ اپنے کونسل محمد ابراہیم کے ذریعہ کرکرڈوما کورٹ میں داخل کردہ اپنی درخواست میں شرجیل نے بیان کیاکہ 30 جون کو شام تقریباً 7.30 بجے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ 8 ، 9 قیدیوں کے ہمراہ اُن کے قید خانہ کو آئے اور وجہ بتائی کہ وہ تلاشی کے سلسلہ میں آئے ہیں۔ سرچ آپریشن قیدیوں کے ذریعہ نہیں کیا جاتا بلکہ یہ صرف مجاز اسٹاف کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ اِس تلاشی کے دوران شرجیل نے بتایا کہ اُن کی کتابیں اور کپڑے پھینک دیئے گئے ، اُنھیں مارپیٹ کی گئی اور دہشت گرد نیز قوم دشمن قرار دیا گیا۔ وہ اپنی اشیاء کی حفاظت کی کوشش کرتے رہے لیکن اُنھیں زدوکوبی کے ذریعہ باز رکھا گیا۔ شرجیل نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ مستقبل میں اِس طرح کے واقعات سے اُنھیں محفوظ رکھنے کے لئے جیل حکام کو ہدایات جاری کی جائیں اور جیل کے سی سی ٹی وی کیمرے سے اُس وقت کی ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرتے ہوئے جانچ کی جائے۔ شرجیل نے بتایا کہ اگرچہ اُنھوں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سے درخواست کی کہ قیدیوں کو اُن پر حملہ سے روکے لیکن اُنھوں نے کوئی توجہ نہیں کی۔ ایسا معلوم ہوا کہ خود اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اِس غیرقانونی حرکت میں ملوث ہیں۔ اُنھوں نے مزید الزام عائد کیاکہ بعض دیگر قیدیوں نے اُن کے قید خانہ میں ممنوعہ مادے رکھنے کی کوشش بھی کی۔