جی او 111 کی منسوخی کے بعد شہر کیلئے گرین ماسٹر پلان

   

حیدرآباد 30 اپریل (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہاکہ ریاستی حکومت آئندہ 18 ماہ میں حیدرآباد کے لئے ایک نئے ماسٹر پلان کی تیاری کے لئے عالمی معیار کی ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کل یہاں حیدرآباد پراپرٹی شو کے 11 ویں ایڈیشن کا افتتاح کرنے کے بعد مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ چونکہ جی او 111 کو برخاست کردیا گیا ہے۔ اس لئے شہر کے لئے ایک نئے ماسٹر پلان کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس نئے ماسٹر پلان کی تیاری تمام تر ماحولیاتی اُصول و قواعد پر عمل کرتے ہوئے کی جائے گی۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ’’چونکہ جی او 111 کو منسوخ کردیا گیا ہے اس سے ترقی اور ڈیولپمنٹ کے لئے 1.32 لاکھ ایکرس کا ایک بہت بڑا علاقہ کھلا ہے۔ ریاستی حکومت ماحولیات کے تحفظ کے لئے بنائے گئے اُصول و قواعد پر عمل کرتے ہوئے منصوبہ بند انداز میں ترقی کے کام شروع کرے گی‘‘۔ انھوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے ایک گرین بجٹ بھی شروع کیا ہے۔ گرین کور میں سات فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ مسلسل دو سال حیدرآباد کو ’’ٹری سٹی آف انڈیا‘‘ کا رینک دیا گیا ہے۔ جب ہم گرینری اور ماحولیات کے لئے بہتر اقدامات کو بہت زیادہ ترجیح دے رہے ہیں تو پھر جی او 111 کی منسوخی کے بعد بھی ہم ماحولیات میوں کیوں خلل پیدا کریں گے۔ حتی کہ منسوخ کئے گئے جی او کی زد میں آنے والے 84 مواضعات کے لوگ بھی خوشی کا اظہار کررہے ہیں کیوں کہ ان کے لئے روشن مستقبل ہے۔ کے ٹی آر نے CREDAI ، ٹریڈا تلنگانہ بلڈرس فیڈریشن، تلنگانہ ڈیولپرس اسوسی ایشن اور دیگر رئیلٹرس سے شہر میں ویسٹ مینجمنٹ، ذخائرآب کے تحفظ کے لئے تجاویز طلب کئے۔ انھوں نے کہاکہ ریاست میں تمام 141 میونسپلٹیز اور کارپوریشنس کے لئے بھی ایک ماسٹر پلان ہوگا۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ کے بارے میں انھوں نے کہاکہ جہاں تک اس شعبہ کا تعلق ہے 60 تا 70 فیصد لیبرس یہاں جھارکھنڈ، بہار، یوپی، اڈیشہ جیسی ریاستوں اور دیگر ریاستوں سے آتے ہیں لیکن ہماری ریاست کے اضلاع بشمول کریم نگر اور نظام آباد سے لیبرس روزگار کے لئے کویت دوبئی اور دیگر ممالک کا رُخ کرتے ہیں سے انھیں باز رکھنا چاہئے۔