جی ایچ ایم سی سے پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنے والے 6 لاکھ مالکین کو نوٹس کی اجرائی

   

بلدیہ کی ٹیکس وصولی خصوصی مہم کا آغاز ، 100 عمارتیںمقفل ، ٹیکس بقایاجات میں جوبلی ہلز سرکل سرفہرست

حیدرآباد۔ 22 فروری (سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی کی جانب سے جائیداد ٹیکس کی وصولی کیلئے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے۔دراصل اس مہم کا مقصد مارچ کے اواخر تک 600 کروڑ روپئے کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ تاحال 6 لاکھ مالکین جائیدادوں کو نوٹس جاری کی گئی ہے۔ ٹریڈ لائسنس حاصل کرتے ہوئے دوبارہ اس کی تجدید نہ کرانے والے دیڑھ لاکھ افراد کو بھی نوٹس جاری کی جارہی ہے۔ طویل عرصہ سے ٹیکس ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنے والے بعض خانگی دواخانوں، تعلیمی اداروں، ہوٹلس، ریسٹورینٹس اور دیگر تجارتی اداروں کو مہربند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتہ کے دوران 100 سے زیادہ عمارتوں کو مقفل کردیا گیا۔ بلدیہ کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 5 لاکھ روپئے سے زائد ٹیکس ادا نہ کرنے والے تقریباً 4 ہزار عمارتیں ہیں۔ سب سے زیادہ جوبلی ہلز سرکل میں 700، خیریت آباد میں 650، گوشہ محل میں 550، بیگم پیٹ میں 280، سرور نگر میں 180، عنبرپیٹ میں 140، مہدی پٹنم میں 150 ان تمام عمارتوں سے جملہ 4,000 کروڑ روپئے ٹیکس وصول طلب ہے جس میں اکثر سرکاری عمارتوں کی ہے۔ پنجہ گٹہ کا ایک مشہور سرکاری دواخانوں 55 کروڑ روپئے، بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 پر سرکاری آفس سے ایک کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس وصول طلب ہے۔ بعض عمارتوں کے مالکین کی تعداد جوکہ 3,09,000 ہے، انہوں نے گزشتہ دو سال سے تو ٹیکس ادا کیا ہے ، لیکن جاریہ سال ٹیکس ادا کیا اور ان سے جی ایچ ایم سی کو 600 کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس وصول طلب ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے تاحال 6 لاکھ 34,552 افراد کو نوٹس جاری کی گئی۔ 5 لاکھ روپئے سے زائد ٹیکس باقی رکھنے والے عمارتوں کے مالکین کی تعداد 4,500 ہے، ان سے 3,500 کروڑ روپئے وصول طلب ہے۔ بلدیہ کی جانب سے زیادہ ٹیکس باقی رکھنے والے عمارتوں اور اداروں کے مالکین کی فہرست بھی جاری کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ جوبلی ہلز لینڈ مارک پروجیکٹ 52 کروڑ روپئے، حیدرآباد اسبسطاس ادارہ 30 کروڑ روپئے، این ٹی آر میموریل ٹرسٹ 5 کروڑ 50 لاکھ روپئے، سوماجی گوڑہ میں واقع ہوٹل کتریہ 8 کروڑ 62 لاکھ روپئے، ایل اینڈ ٹی میٹرو لائن 32 کروڑ روپئے، انڈو۔ عرب لیگ 7 کروڑ 33 لاکھ روپئے۔ خیریت آباد زون کے حدود میں 100 مالکینِ جائیدادکو ریڈ نوٹس جاری کی گئی۔ عہدیداروں نے کہا کہ اگر اس نوٹس پر مالکین کی جانب سے مثبت ردعمل کا اظہار نہ کیا گیا تو ان جائیدادوں کو ضبط کرلیا جائے گا۔ یوسف گوڑہ سرکل میں ٹیکس باقی رکھنے والے ایک خانگی اسکول کو بلدیہ عہدیداروں نے مہربند کردیا۔ نوٹس کی اجرائی کے بعد مثبت ردعمل ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف ریوینیو ریکوری ایکٹ 269(2) کے تحت وہ جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔2