دونوں تاریخی ذخیرہ آب کے آب گیر علاقوں میں فارم ہاوز ، ولاء اور کالجس کا قیام
محکمہ مال اور پنچایت راج کے سروے میں 5 ہزار غیر مجاز قبضوں کی نشاندہی
حیدرآباد :۔ گذشتہ ایک ہفتہ سے ہونے والی بارش سے شہر حیدرآباد کے کئی علاقے جھیل میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ مگر تاریخی عثمان ساگر میں ایک فیٹ پانی بھی جمع نہیں ہوا ہے ۔ جب کہ حمایت ساگر میں صرف 2 فیٹ پانی جمع ہوا ہے ۔ اوپری حصے میں ہونے والی بارش سے پانی شہر کے دو تاریخی ذخیرہ آب میں جمع ہوتا ہے ۔ تاہم پانی بہہ کر آنے والے انفلو چیانلس قبضہ کا شکار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پانی بہہ کر آنے والے تمام راستے بند ہوگئے ہیں ۔ بالخصوص وقار آباد ، شنکر پلی کے علاوہ دوسرے 84 گاؤں میں ہونے والی بارش سے عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں پانی جمع ہوتا ہے ۔ ان علاقوں میں فارم ہاوزس ، ولاء ، رئیل وینچرس ، انجینئرنگ کالجس ، ریت مافیا کے فلٹرس اور دوسرے تعلیمی ادارے ، گودام وغیرہ کا قیام اور دوسرے قبضے ہوگئے ہیں ۔ ماضی میں محکمہ مال اور پنچایت راج کے شعبوں کی جانب سے سروے کرتے ہوئے 5 ہزار ناجائز قبضوں کی نشاندہی کرنے کے باوجود اس کو برخاست کرنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ جس کی وجہ سے عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں پانی بہہ کر آنے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے ۔ واضح رہے کہ ان دو بڑے ذخیرہ آبوں کی جانب سے ماضی میں دونوں شہروں کے عوام کو پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا تھا ۔
اس مرتبہ شنکر پلی ، وقار آباد ، معین آباد ، مومن پیٹ کے علاوہ دوسرے علاقوں میں اوسط سے 15 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔ باوجود اس کے عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں پانی جمع نہیں ہوا ہے ۔ جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان دونوں ذخیرہ آبوں میں بہہ کر آنے والے پانی کے انفلو چیانلس قبضوں کا شکار ہوئے ہیں ۔ اگر حکومت کی جانب سے ناجائز قبضوں کو برخواست کیا جاتا ہے تو نہ صرف ان ذخیرہ آبوں میں پانی جمع ہوگا بلکہ شہریوں کو 60 ملین گیالن پینے کا پانی بھی سربراہ کیا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کے لیے ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کررہے ہیں اور بڑے پیمانے پر حصول اراضیات حاصل کررہے ہیں پہلے سے موجود عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے آب گیر علاقوں میں جو قبضے ہوئے اس کو برخاست کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دیکھا رہے ہیں ۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بھی ان قبضوں کے خلاف کئی مرتبہ ریمارکس کیا گیا ہے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ نئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر جو تاریخی ذخیرہ آب ہیں اس پر بھی توجہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔۔