حجاب مسئلہ پر مسلم طالبات کا دل جیتنے کی کوشش کریں گے

   

بعض عناصر نے طالبات کو گمراہ کیا ہے، عدالتی فیصلہ کے بعد ریاستی وزیرتعلیم ناگیش کا بیان

بنگلورو : حجاب تنازعہ میں کرناٹک ہائی کورٹ نے کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے، اس فیصلے اور مسلم طالبات کے احتجاج کے درمیان پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے منگل کو کہا کہ وہ مذہب کے نام پر ’گمراہ‘حجاب پہننے پر مصر مسلم لڑکیوں کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں تعلیم کے مرکزی دھارے میں لایا جائے گا۔ناگیش نے یہ بھی کہا کہ کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983 میں موجود خامیوں کو خاص طور پر جو اسکول یونیفارم سے متعلق ہیں، دور کیا جائے گا۔ریاستی وزیر ناگیش نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم ان لڑکیوں کا دل جیتنے کی کوشش کریں گے جو حجاب کے نام پر گمراہ ہوچکی ہیں،ہم انہیں تعلیم کے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے۔ ریاستی وزیر کے مطابق مجھے یقین ہے کہ لڑکیاں کالج آئیں گی اور اپنی تعلیم جاری رکھیں گی کیونکہ کرناٹک کے لوگ نہ تو عدالت کے خلاف جاتے ہیں اور نہ ہی اس کے خلاف بولتے ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ ان طالبات کو گمراہ کیا گیا ہے، آنے والے دنوں میں یہ ثابت بھی ہو جائے گا۔ریاستی وزیر کے مطابق اسکول یونیفارم نام نہاد ’حب الوطنی‘ کے جذبات کو ابھارنے میں مدد کرتا ہے، ہم یونیفارم کو لازمی بنائیں گے تاکہ طلبا کو معلوم ہو کہ وہ اس ملک کے بچے ہیں۔ وہیں کرناٹک کے وزیر داخلہ آرگیہ گیانندر نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر کسی کو ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنا چاہیے،اور امن و امان برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔