حضرت فضیلت جنگ روحانیت کا روشن مینار

   

حافظ محمد صابر پاشاہ

شخصیات اپنے عہد کی پہچان، قوموں کا افتخار اور تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہوتی ہیں۔ ہر دور میں اہلِ علم و دانش، اربابِ بصیرت اور مردانِ حق پیدا ہوتے رہے ہیں، لیکن ان میں بعض ایسی غیر معمولی شخصیات ہوتی ہیں جن کی زندگی کے مختلف گوشے علم و عمل، زہد و تقویٰ، اخلاص و للہیت، روحانیت و معرفت اور خدمتِ دین کے ایسے تابندہ نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ زمانے کی گردش بھی ان کی عظمت کو دھندلا نہیں سکتی۔ ان کی حیات محض ایک فرد کی زندگی نہیں رہتی، بلکہ ایک عہد کی علمی، فکری اور روحانی تاریخ بن جاتی ہے۔ ان کے افکار و اعمال سے نسلیں روشنی حاصل کرتی ہیں اور ان کی قائم کردہ علمی و دینی روایتیں صدیوں تک علم و عرفان کے چراغ روشن رکھتی ہیں۔تاریخِ دکن کے علمی و روحانی افق پر ایسی ہی ایک عظیم المرتبت، نابغۂ روزگار اور جامع الصفات شخصیت حضرت شیخ الاسلام والمسلمین، عارف باللہ، امام الحافظ مولانا محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ والرضوان، بانی جامعہ نظامیہ کی ہے۔ آپ کی ذاتِ گرامی میں علومِ ظاہری و باطنی، فقہ و حدیث، تصوف و معرفت، تحقیق و تصنیف، تدریس و تربیت اور عشقِ رسول ﷺ کے ایسے درخشاں اوصاف جمع تھے کہ ان کا احاطہ کرنا آسان نہیں۔ آپ محض ایک عالمِ دین یا مدرس و مصنف نہیں تھے، بلکہ ایک عظیم علمی تحریک، ایک روحانی روایت اور ایک مستقل دینی و تعلیمی عہد کا نام تھے۔
اگر یہ کہا جائے کہ حضرت فضیلت جنگؒ اپنے عہد کی نادر و نایاب شخصیتوں میں بھی ممتاز ترین مقام رکھتے تھے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ حضرت فضیلت جنگؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف سادگی، سنجیدگی، متانت اور خاموش طبعی تھا۔ آپ کی طبیعت میں غیر معمولی ٹھہراؤ اور وقار پایا جاتا تھا۔ کم گوئی اور تفکر آپ کے مزاج کا حصہ تھے۔ آپ ظاہری نمود و نمائش سے دور رہتے اور علمی و روحانی مشاغل میں زیادہ وقت صرف فرماتے تھے۔ آپ کی شخصیت میں وہی متانت اور سنجیدگی نمایاں تھی جو اہلِ علم و عرفان کا امتیازی وصف ہوتی ہے۔
آپ کی علمی عظمت کا اندازہ صرف آپ کی تصانیف اور تدریسی خدمات سے نہیں، بلکہ ان واقعات سے بھی ہوتا ہے جن میں آپ کی روحانی نسبت، عشقِ رسول ﷺ اور باطنی کیفیات کا تذکرہ ملتا ہے۔ آپ کی زندگی کے ان پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان منقول روایات کا مطالعہ کیا جائے جو اکابرِ جامعہ اور آپ کے معاصرین سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت فضیلت جنگؒ کی حیات و خدمات کو صرف عقیدت مندانہ تذکروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان کے علمی، تحقیقی، روحانی اور تعلیمی کارناموں کو نئی نسل کے سامنے مستند حوالوں کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اُن کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے اور جامعہ نظامیہ کے علمی ورثے کی حفاظت کی جائے۔