تلنگانہ میں نشستوں کی تعداد 26 اور اے پی میں 38 ہو جائے گی : امیت شاہ
نئی دہلی 16 اپریل ( سیاست نیوز ) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کے تعلق سے وضاحت میں کہا کہ شمالی ریاستوں کو فائدہ اور جنوبی ہند کی ریاستیں پیچھے رہ جانے کے اندیشے بے بنیاد ہیں۔ لوک سبھا میں اظہار خیال امیت شاہ نے اپوزیشن کی تنقیدوں کا جواب دینے کی کوشش کی اور کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے تین بلز کا حوالہ دیا جن میں حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا بل بھی شامل ہے ۔ اس کے تحت ملک میں لوک سبھا حلقوں کی تعداد موجودہ 543 سے گھٹ کر 850 ہوجائے گی ۔ اس تجویز پر جنوبی ہند کی ریاستوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ امیت شاہ نے ایوان میں بتایا کہ کرناٹک میں لوک سبھا کی موجودہ نشستیں 28 ہیں۔ نئی حد بندی کے بعد یہ تعداد 42 ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ارکان پارلیمنٹ کی جملہ نمائندگی میں کرناٹک کا حصہ 5.15 فیصد ہے جو نئی حد بندی کے بعد 5.14 فیصد ہوجائے گا ۔ اس طرح نمائندگی پر کوئی خاص اثر نہیںہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو میں فی الحال 39 ارکان پارلیمنٹ ہیں جو بعد میں بڑھ کر 59 ہوجائیں گے ۔ موجودہ نمائندگی کی شرح 7.18 فیصد ہے جو بڑھ کر 7.23 فیصد ہوجائے گی ۔ وزیر داخلہ نے تلنگانہ کے تعلق سے بتایا کہ ریاست میں فی الحال 17 لوک سبھا حلقے ہیں جو بڑھ کر 26 ہوجائیں گے ۔ تلنگانہ کی موجودہ نمائندگی 3.13 فیصد ہے جو بڑھ کر 3.18 فیصد ہوجائے گی ۔ آندھرا پردیش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں موجودہ نشستیں 25 ہیں جو بڑھ کر 38 ہوجائیں گی ۔ ریاست کی نمائندگی کی شرح فی الحال 4.60 فیصد ہے جو بعد میں 4.65 فیصد ہوجائے گی ۔