حماس جنگجوؤں کے تعاقب کیلئے اسرائیل کیلئے امریکہ کا متبادل منصوبہ

   

واشنگٹن: اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کے بعد اور اس کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے درمیان ناراضی میں اضافے کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے تل ابیب کے سامنے حماس ارکان کے تعاقب کیلئے متبادل منصوبہ پیش کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن نے اپنی ٹیم کو حماس تحریک کو ’’مستقل طور پر شکست دینے‘‘ کیلئے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے اس کھیپ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے اسے اسرائیل بھیجے جانے سے روک دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو حماس کے ارکان کا پیچھا کرنے کیلئے کچھ متبادل راستے پیش کیے ہیں۔یہ بات صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے فراہم کردہ بموں کے فلسطینی شہریوں کے خلاف استعمال کے بعد اسرائیلی فوج کو ان کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو فراہم کردہ 907 کلو گرام وزنی بموں کو اسرائیل نے شہری آبادی پر گرایا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات ہوئی ہیں۔امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل رفح میں داخل ہوتا ہے تو ہم اسے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے تاریخی طور پر استعمال ہونے والے ہتھیار فراہم نہیں کریں گے۔