20 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی متوقع ، بولی کا عمل شروع ، اراضیات، ہائی ٹیک سٹی اور فینانشیل ڈسٹرکٹ کے قریب
حیدرآباد۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد کی ترقی میں گچی باؤلی ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔ حکومت اس علاقہ میں 400 ایکر سرکاری اراضی کو نیلام کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے ان اراضیات کیلئے ایک ماسٹر لے آؤٹ ڈیزائن کررہا ہے۔ ان اراضیات کی نیلامی کیلئے بولی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس پارٹی ڈسمبر 2023ء میں تلنگانہ میں برسراقتدار آنے کے بعد اراضی کی یہ سب سے بڑی نیلامی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق حکومت تلنگانہ کو ان اراضیات کی نیلامی سے 20 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی۔ واضح رہے کہ یہ قیمتی اراضی گچی باؤلی کے علاقہ میں واقع ہے جو شہر حیدرآباد کا سب سے بڑا آئی ٹی ہب اور رہائشی مرکز ہے۔ یہ 400 ایکر اراضی ہائی ٹیک سٹی سے 7 تا 8 کیلومیٹر اور پنجہ گٹہ چوراستہ سے 15 سے 18 کیلومیٹر ، سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے 22 کیلومیٹر اور شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ سے 33 کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بولی کی دستاویزات میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ 400 ایکر زمین حیدرآباد کے مغرب علاقہ میں واقع ہے۔ بولی کی دستاویزات یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زمین ہائی ٹیک سٹی اور فینانشیل ڈسٹرکٹ کے بہت قریب ہے۔ ہائی ٹیک سٹی اور فینانشیل ڈسٹرکٹ کے علاقوں میں 100 سے زیادہ آئی ٹی اور کارپوریٹ کمپنیاں ہیں۔ ان کمپنیوں میں 10 لاکھ سے زائد ملازمین خدمات انجام دیتے ہیں۔ حیدرآباد نالج سٹی جو رائے دُرگ میں 470 ایکر پر تیار کیا گیا ہے، وہ بھی ان 400 ایکر زمین کے قریب واقع ہے۔ 2006ء میں اُس وقت کی حکومت نے سری لنگم پلی منڈل کے گچی باؤلی سروے نمبر 25 میں واقع 400 ایکر سرکاری زمین آئی ایم جی اکیڈیمکس ، بھارت پرائیویٹ لمیٹیڈ کو الاٹ کی تھی۔ موجودہ حکومت نے اسی سال ان الاٹمنٹس کو منسوخ کردیا جس کے نتیجہ میں مذکورہ بالا دونوں کمپنیاں دونوں سے رجوع ہوگئیں۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ زمین ریاستی حکومت کے حوالے ہوئی ہے۔ جس کے بعد کانگریس حکومت نے اس اراضی کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا۔2