حکومت بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کے عہد کی پابند

   

محکمہ ٹرانسپورٹ کی ترقی کو یقینی بنایا جائیگا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کا وزیر ٹرانسپورٹ کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) حکومت ‘ریاست میں بی سی طبقہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے علاوہ محکمہ روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ کی ترقی کیلئے بھی اقدامات کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے آج وزیر ٹرانسپورٹ و بی سی ویلفیر پونم پربھاکر و دونوں محکمہ جات کے عہدیداروں کے ہمراہ بجٹ کی تیاری پر جائزہ اجلاس منعقد کرکے دونوں محکمہ جات کی بجٹ تجاویز و مطالبات زر کے متعلق تفصیلات سے آگہی حاصل کی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ ہر ماہ پہلی تاریخ کو آرٹی سی ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کو یقینی بنائیں ۔ اجلاس میںڈپٹی چیف منسٹرنے عہدیداروں سے محکمہ جات کی صورتحال اور انہیں درکار ضروری بجٹ کی تفصیلات کے متعلق تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ حکومت سے غیر ضروری اخراجات پر قدغن لگانے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان کو کم کرکے حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور محکمہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ملو بھٹی وکرمارک نے محکمہ ٹرانسپورٹ عہدیداروں سے دریافت کیا کہ ریاست میں خواتین کو مفت بس کی سہولت کیلئے جو مالی بوجھ عائد ہو رہا ہے اس کی پابجائی کس طرح سے کی جا رہی ہے علاوہ ازیں ٹرانسپورٹ ملازمین کے مفادات کے تحفظ اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے و ان کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دینے کی تاکید کی اور کہا کہ سرکاری خزانہ کی حقیقی صورتحال اور محکمہ جات کے مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے بجٹ کی تیاری عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ بی سی ویلفیر کی اسکیمات میں بہتری لانے و بی سی طبقہ کی فلاح و بہبود کے ساتھ محکمہ سے استفادہ کرنے والے بی سی طبقہ کے افراد کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں گے اور حکومت کی اسکیمات کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے اقدامات کئے جائیں گے ۔ بجٹ میں اضافہ کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بجٹ میں شامل کرنے اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیر بی سی ویلفیر پونم پربھاکر نے بتایا کہ حکومت سے محکمہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ معیشت کے استحکام کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت بجٹ کی تیاری سے قبل تمام محکمہ جات کے عہدیداروں سے تبادلہ خیال اور مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کررہی ہے تاکہ محکمہ جات اور معیشت کے استحکام کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ سابقہ حکومت میںریاست کو مقروض کرنے کے علاوہ محکمہ جات کو تباہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی اور بجٹ کی تخصیص کے محض اعلانات کئے گئے لیکن بجٹ کی اجرائی کے معاملہ میں سابقہ حکومت نے مثبت اقدام نہیں کئے تھے۔3