حکومت کو بچوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے :راہول

,

   

پولیس کارروائی کے دفاع پرکانگریس قائد کی کرن رجیجو پر سخت تنقید

نئی دہلی ۔18؍اگست ( ایجنسیز ) پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جنتر منتر پر طلبا کے احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی کا دفاع کیا جس پرراہول گاندھی نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کو ملک کے بچوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس آنکھیں بھی ہیں اور یادداشت بھی۔راہول گاندھی نے کہا کہ حکومت کے وزیر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنتر منتر پر اتنے بڑے احتجاج کے باوجود کسی شخص کی موت نہیں ہوئی اور مظاہرین کو سنگین چوٹ نہیں لگی، اس لیے دہلی پولیس کی تعریف ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض نصف کلومیٹر دور پْرامن احتجاجی طلبا پر پیلٹ گن چلنے، کیل لگی لاٹھیوں کے استعمال اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعات کے بعد پولیس کی تعریف کیسے کی جا سکتی ہے۔ وہ خود زخمی طلبا سے ملاقات کر چکے ہیں اور احتجاج کے دوران پیش آئے واقعات سے متعلق ویڈیوز ملک کے سامنے موجود ہیں۔ راہول گاندھی واقعات سے انکار کرنے کے بجائے ذمہ داری قبول کرنے حکومت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کا بنیادی منتر جھوٹ اور تشدد ہے۔ ان کے مطابق پہلے بچوں پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں اور بعد میں کہا جاتا ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔راہول گاندھی نے وزیر داخلہ امیت شاہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پورے پارلیمانی اجلاس کے دوران وہ اپوزیشن سے بچتے رہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے سوال کیا کہ وہ طلبا سے معافی کیوں نہیں مانگ رہے۔ یہ تنازعہ ایسے وقت میں مزید اہم ہو گیا ہے جب سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر پولیس کارروائی اور تشدد کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے مطابق کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج، ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس اور ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر شامل ہوں گے۔