دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چینائی پر تلنگانہ کے دارالحکومت کو برتری
حیدرآباد۔ 25 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد عالمی صلاحیت کے سنٹرس جی سی سی کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اگرچہ ملک کے بڑے شہروں جیسے دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چینائی جی سی سی کو راغب کرنے کیلئے حیدرآباد سے سخت مقابلہ کررہے ہیں لیکن اس میدان میں تلنگانہ کا دارالحکومت ان تمام شہروں پر واضح طور پر غالب ہے۔ گزشتہ 5 سال کے دوران ہندوستان میں 1700 بی سی سیز 2,975 جی سی سی یونٹس قائم کئے گئے جس میں سے 30 فیصد حیدرآباد میں ہیں۔ 2019 کے دوران حیدرآباد میں 230 جی سی سیز تھے جو 2024 میں بڑھ کر 355 ہوگئے۔ ہندوستان کے ٹکنالوجی ماحول، روزگار کی تخلیق، مارکٹ کی ترقی، صلاحیتیں دیگر معاملات کی وجہ سے 2030 تک جی سی سیز اہم رول انجام دینے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر آپریشنس کو منظم کرنے کیلئے مقامی مہارتوں اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکمت عملی کے ساتھ عالمی قابلیت کے مراکز (GCCs) قائم کررہی ہے۔ اس تناظر میں نیشنل اسوسی ایشن آف سافٹ ویر اینڈ سرویس کمپنی (NASCOM) نے حال ہی میں ’’جی سی سی تلنگانہ‘‘ بک جاری کیا ہے جس میں تلنگانہ میں GCCs کے قیام کے فوائد کی وضاحت کی گئی۔ اراضیات کی خریداری پر سبسیڈی، آئی ٹی پارک کی مراعات، اسٹامپ ڈیوٹی میں چھوٹ، برقی کی سبسیڈی، ٹاسک، اسکل یونیورسٹی، آئی آئی ٹی، ٹرپل آئی ٹی آئی، آئی ایس بی جیسے بین الاقوامی سطح کے تعلیمی اداروں کی موجودگی کے ذریعہ ہر سال ہزاروں افراد کو ہنرمند بنانے کی تربیت دی جارہی ہے۔ سرکاری ادارے ٹی ہب، وی ہب، ٹی ایس آئی سی، جیسی اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرس اور 50 سے زائد جی سی سی کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کئے ہیں۔ مختلف شعبوں میں جی سی سی کے قیام کیلئے آئندہ تین تا پانچ سال کے دوران 40 لاکھ تا 60 لاکھ مربع میٹر دفتر کی جگہ دستیاب ہوگی۔2