حیدرآباد دوسرے مرحلے کی میٹرو ریل تخمینی لاگت 24.269 کروڑ روپئے

   

5 راہداریوں کے لیے علحدہ علحدہ ڈی پی آر ، کابینہ میں منظوری کے بعد مرکز کو روانہ کی جائے گی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد میں میٹرو لائن دوسرے مرحلے کی پانچ لائنوں کی جامع پراجکٹ رپورٹ ( ڈی پی آر ) ریاستی حکومت کو پیش کردی گئی ہیں ۔ 76.2 کلومیٹر پر مشتمل دوسرے مرحلے کی تخمینی لاگت 24.269 کروڑ ہونے کا عہدیداروں نے ڈی پی آر میں اندازہ لگایا ہے ۔ فورتھ سٹی کے علاوہ باقی پانچ راہداریوں کے لیے علحدہ علحدہ رپورٹس پیش کی گئی ہیں ۔ 7 اکٹوبر کو چیف منسٹر ریونت ریڈی کی دہلی میں مرکزی وزیر شہری ترقیات سے ملاقات کے پیش نظر دسہرہ سے قبل ڈی پی آر پیش کردینے کی چیف منسٹر آفس نے ہدایت دی تھی ۔ جس پر مقررہ وقت میں ڈی پی آر پیش کردینے حیدرآباد ایرپورٹ میٹرو ریل کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹس پہلے ہی تیار ہوگئی تھی تاہم ٹریفک اسٹیڈی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا تھا ۔ کامپری ہینسیو موبلیٹی پلان (CMP) کی مسودہ رپورٹ تیار ہونے پر ڈی پی آر کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو پیش کردیا گیا ہے ۔ اس کی بنیاد پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر شہری ترقیات سے ملاقات کی ۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کے اشتراک سے اس پراجکٹ کو تکمیل کرنے کی منظوری دینے کی اپیل کی ۔ ڈی پی آر روانہ کردینے سے بھی واقف کرایا گیا ہے ۔ میٹرو کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مرکز نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ملک کے مختلف شہروں میں مرکز اور ریاست کے اشتراک سے میٹرو پراجکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ پراجکٹ کے مکمل اخراجات میں مرکزی حکومت کی حصہ داری 15 فیصد ہے ۔ حیدرآباد میٹرو دوسرے مرحلے کے لیے 18 فیصد کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ ریاستی حکومت 30 فیصد مصارف برداشت کرنے کے لیے تیار ہے ۔ 4 فیصد پی پی پی سرمایہ کاری پر غور کیا جارہا ہے ۔ ماباقی 48 فیصد جائے گا ۔ جیسے اداروں سے کم سود پر قرض حاصل کیا جائے گا ۔ مرکزی اور ریاست کے شراکت داری کے منصوبوں پر قرضوں کی ضمانت مرکز ادا کرے گا ۔ میٹرو دوسرے مرحلے کے ڈی پی آر کو پہلے تلنگانہ کی کابینہ میں منظوری دی جائے گی ۔ اس کے بعد منظوری کے لیے مرکزی حکومت کو روانہ کی جائے گی ۔ بعد ازاں چیف منسٹر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے اس کو منظوری دینے کی اپیل کرنے کا امکان ہے ۔۔ 2