حیدرآباد شہر کو ٹوکیو اور نیویارک کی طرز پر ترقی دینے کا عزم : چیف منسٹر

,

   

ہزار کروڑ روپئے کے پراجکٹس کا افتتاح و سنگ بنیاد ، ریونت ریڈی کا رائزنگ حیدرآباد پروگرام سے خطاب

حیدرآباد۔3۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کو جاپان کے شہر ٹوکیو اور امریکی شہر نیویارک کے طرز پر ترقی دی جائے گی اور شہر حیدرآباد کی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج ’’رائزنگ حیدرآباد‘ ‘ پروگرام سے خطاب کے دوران زائد از 7000 کروڑ کے پراجکٹس کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اپنے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے استفسار کیا کہ پرانے شہر کو ’استنبول ‘ کے طور پر ترقی دینے والے کہاں ہیں اور ان کے اعلان کا کیا ہوا سب جانتے ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے آج دونوں شہروں میں جن ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جار ہاہے ان کی عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کو چیالنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مرکزی حکومت سے شہر حیدرآباد کے لئے 1لاکھ 50ہزار کروڑ روپئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر کوئلہ مسٹر جی کشن ریڈی کی پریڈ گراؤنڈ میں لاکھوں افراد کی موجودگی میں تہنیتی تقریب کریں گے۔ انہوں نے مرکزی وزیر مسٹر جی کشن ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو حیدرآباد کا دورہ کرواتے ہوئے موسیٰ ندی کی آلودگی کا مشاہدہ کروائیں۔ ریاست میں ایک سالہ عوامی حکمرانی کی تکمیل کے موقع پر منعقدہ تقاریب کے حصہ کے طور پر ’رائزنگ حیدرآباد‘ پروگرام کے دوران ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک‘ انچارج وزیر شہر مسٹر پونم پربھاکر‘ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر ڈی سریدھر بابو‘ مشیر برائے چیف منسٹر مسٹر ویم نریندر ‘ جناب عامر علی خان رکن تلنگانہ قانون ساز کونسل‘ سابق ارکان پارلیمان مسٹر مدھو گوڑ یشکی ‘ مسٹر انجن کمار یادو‘ رکن اسمبلی مسٹر ڈی ناگیندر کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے ۔ چیف منسٹر نے اس پروگرام کے دوران کہا کہ شہر حیدرآباد کی ترقی کانگریس کی مرہون منت ہے کیونکہ عصری ٹکنالوجی کے مرکز کے طور پر کانگریس نے اپنے دور حکومت میں ہی ترقی دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا اسی طرح شہر حیدرآباد کے مکینوں کو گوداوری اور کرشنا سے پینے کے پانی کی سربراہی کا پراجکٹ بھی کانگریس کے دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت کے ایک سال کی تکمیل کے دوران حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں ’’فورتھ سٹی ‘‘ فیوچر سٹی کے قیام کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت تلنگانہ شہر حیدرآباد کو عالمی شہر کے طور پر منفرد شناخت کا حامل شہر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ایک سال کی تکمیل کے دوران حکومت نے آئندہ سال کے ترقیاتی پراجکٹس کی منصوبہ بندی بھی کرلی ہے۔ انہو ںنے شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ میٹرو ریل کا آغاز بھی کانگریس کے دور حکومت میں ہواتھا اور اب میٹرو ریل کے توسیعی منصوبہ کو بھی کانگریس دور حکومت میں ہی منظوری دی گئی ہے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں ہی شمس آباد میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور اب کانگریس اپنے دوراقتدار میں 35ہزار کروڑ کی لاگت سے 360 کیلو میٹر پر محیط آؤٹر رنگ روڈ کے نیٹ ورک کی تعمیر کے منصوبہ پر عمل آوری کرنے جا رہی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ریڈیئل سڑکوں کی تعمیر کے ذریعہ شہر کو مزید ترقی دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی اولین ترجیح موسیٰ ندی کی صفائی اور اس کا احیاء ہے اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔چیف منسٹر نے مرکزی حکومت سے موسیٰ ندی کی صفائی کے پراجکٹ کے لئے 25ہزار کروڑکی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے شہر حیدرآباد کو 1.5لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری سے دنیا بھر میں مثالی شہر کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مرکزی حکومت ریاست کی جانب سے کی جانے والی اس درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے پراجکٹس بالخصوص موسیٰ ندی کے احیاء اور صفائی ‘ ریجنل رنگ روڈکی تعمیر ‘ میٹرو ریل کے توسیعی منصوبہ ‘ اور پینے کے پانی کی شہر حیدرآباد کے مکینوں کے لئے سربراہی کے پراجکٹس میں مرکزی حکومت کا عدم تعاون افسوسناک ہے ۔ انہو ںنے ریاست سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اور بھارتیہ جنتاپارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ شہر حیدرآباد اورتلنگانہ کی ترقی کے لئے مرکزی حکومت سے فنڈس کے حصول کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے مستقبل کے منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تمام ترقیاتی کاموں کو اپنے دور میں مکمل کرنے کے علاوہ گوداوری سے موسیٰ ندی کو پانی کے پراجکٹ کی تکمیل کو یقینی بنائے گی اور شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہروں اور سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے اقدامات کرے گی۔چیف منسٹر نے آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں تالابوں اور سرکاری اراضیات کے علاوہ اثاثوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے ادارہ ’حیدرا‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارہ کے قیام سے اپوزیشن قائدین میں خوف پیدا ہوچکا ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے اور انہوں نے اپریل 2023تا نومبر 2023 کے مقابلہ میں اپریل 2024 اور نومبر 2024کے دوران رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں 29 فیصد اضافہ کے متعلق واقف کروایا۔اس جلسہ عام سے ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک ‘ ریاستی وزراء مسٹر ڈی سریدھر بابو‘ مسٹر پونم پربھاکر کے علاوہ دیگر نے بھی مخاطب کیا۔3