حیدرآباد عالمی شہروں میں شمار ہونے والا منفرد شہر

,

   

ترقی کے معاملہ میں انتہائی خوبصورت ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا دبئی میں خطاب

حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد یا ریاستی حکومت تلنگانہ کا ہندستان کے کسی شہر سے کوئی مقابلہ نہیں ہے بلکہ شہر حیدرآباد عالمی شہروں میں شمار ہونے والا منفرد شہر ہے جس کی ترقی کے ذریعہ اسے انتہائی خوبصورت شہروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج لندن سے واپسی کے دوران دبئی میں اپنے مختصرتوقف پر مختلف کمپنیوں کے ذمہ داروں اور تلنگانہ کے عہدیداروں کے ہمراہ منعقدہ اجلاس کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ 56کیلو میٹر طویل موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز کیا جائے گا اور اس کے علاوہ شہر حیدرآباد میں سر سبز و شاداب ماحول کی فراہمی کے ساتھ ساتھ موسیٰ ندی ریورفرنٹ کو تجارتی سرگرمیوں سے جوڑنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے دبئی میں توقف کے دوران عہدیداروں ندیوں اور تالابوں کو خوبصورت بنانے کے کام انجام دینے والی کمپنیوں اور ان کے ماہرین سے ملاقات کرتے ہوئے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اپنے دورۂ لندن کے دوران بھی موسیٰ ندی کو تھیمس ندی کے طرز پر ترقی دینے کے سلسلہ میں اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے تھیمس ندی کو ترقی دینے والے ادارہ کے ذمہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی تھیں۔ دبئی میں توقف کے دوران منعقدہ اس اجلاس میں چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی کے ہمراہ پرنسپل سیکریٹری برائے چیف منسٹر مسٹر وی شیشادری‘ مسٹر اجیت ریڈی اسپیشل سیکریٹری برائے چیف منسٹر ‘ مسٹر دانا کشور پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم ونسق‘محترمہ اے امراپالی جوائنٹ سیکریٹری و مینجنگ ڈائریکٹر موسیٰ ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے علاوہ مختلف اداروں کے ذمہ دار اور ماہرین موجود تھے۔ چیف منسٹر نے اجلاس کے دوران کہاکہ شہر حیدرآباد دنیا کے ان منفرد شہروں میں شامل ہے جہاں ندیاں اور تالاب موجود ہیں اور ان قدرتی وسائل کو خوبصورت بناتے ہوئے شہر کی مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔دبئی میں چیف منسٹر اور عہدیداروں سے ملاقات کرنے والی ٹیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ وہ جلد ہی تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے موسیٰ ندی کے پراجکٹ پر کام کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔ چیف منسٹر نے ان کمپنیوں اور اداروں کے ذمہ داروں اور ماہرین کو مشورہ دیا کہ وہ شہر حیدرآباد میں موسیٰ ندی اور دیگر تالابوں کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹس کا مشاہدہ کرتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔ اس موقع پر موجود ماہرین اور کمپنیوں کے ذمہ داروں نے یوروپی ممالک کے علاوہ عرب ممالک و دیگر مقامات پر ان کی جانب سے انجام دیئے جانے والے ترقیاتی پراجکٹس کے سلسلہ میں چیف منسٹر اور تلنگانہ کے وفد کے ذمہ داروں کو تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہ کس طرح سے قدرتی خوبصورتی کی بحالی کے سلسلہ میں اقدامات کررہے ہیں۔ اجلاس میں موجود ماہرین کی جانب سے دنیا کے مختلف مقامات پر ندیوں اور ذخائر آب کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹس کی متاثر کن تفصیلات چیف منسٹر کو پیش کرتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا کہ کس طرح سے ندیوں کو خوبصورت بنانے کے علاوہ ان کے تجارتی فروغ کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے ہی موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے علاوہ پرانے شہرکی جامع ترقی کے لئے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیراتی کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں اپنی شخصی دلچسپی کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے پرانے شہر کے منتخبہ عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کے علاوہ عہدیداروں کے ہمراہ اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد کیا تھا اور اب لندن اور دبئی میں بھی اجلاسوں کے دوران موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے منصوبہ پر تبادلہ خیال کے ذریعہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا اظہار کیا ہے۔3