حیدرآباد میں میڈیکل ریسرچ کے عالمی مرکز کا قیام: کشن ریڈی

   

ادویات اور مختلف ویکسین کی تیاری میں سہولت، حیدرآباد عالمی سطح کے ریسرچ سنٹر میں تبدیل

حیدرآباد۔/17 اگسٹ، (سیاست نیوز) مرکزی وزیر سیاحت و کلچر جی کشن ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد عالمی سطح پر میڈیکل ریسرچ کے مرکز کی حیثیت سے اپنی شناخت بناچکا ہے اور نئے ویکسین اور ادویات کی تیاری میں حیدرآباد کا اہم رول ہے۔ جی کشن ریڈی نے جینوم ویلی میں نیشنل انیمل ریسورس فیسلیٹی برائے بائیو میڈیکل ریسرچ کا دورہ کیا۔ آل انڈیا کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے تحت یہ ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حیدرآباد میں نئی ادویات، مختلف ویکسین، طبی آلات اور فوڈ پراڈکٹس کی تیاری کیلئے جو ریسرچ کی گئی ہے اس نے ادارہ کی اہمیت میں اضافہ کردیا ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے عہدیداروں نے پراجکٹ کی پیش رفت سے واقف کرایا۔انھوںنے کہا کہ حکومت نے میڈیکل شعبہ میں بہتر انفرااسٹرکچر کی فراہمی اور نئے ادویات اور ویکسین کی تیاری کیلئے عالمی سطح کا ریسرچ سنٹر قائم کیا ہے۔ 4 لاکھ مربع فیٹ رقبہ پر محیط اس سنٹر کے قیام پر 400 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ سنٹر کے آغاز کیلئے 60 فیصد آلات اور مشنری پہنچ چکی ہے۔ توقع ہے کہ باقی کام بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔ بین الاقوامی مرکز کے قیام کے بعد ادویات اور ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے بائیو ٹکنالوجی، بائیو فارما اور بائیو میڈیکل سہولتوں سے ایک ہی مقام پر استفادہ کرپائیں گے۔ حیدرآباد کے اطراف فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ریسرچ اداروں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرکزنے حیدرآباد میں ادارہ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ویکسین ٹسٹنگ لیاب ملک بھر میں صرف ہماچل پردیش میں موجود ہے۔ مرکز نے 2014-15 میں نئے مرکز کے قیام کو منظوری دی۔ کشن ریڈی نے بتایا کہ اس مرکز میں ریسرچ کی سہولتوں کے باعث اس کوعالمی سطح پر شناخت حاصل ہوگی۔ تحقیقی اداروں کو اب بیرونی ممالک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ادارہ کیلئے 3 میگاواٹ صلاحیت والے سولار پاور پلانٹ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ وزیر اعظم نے ریسرچ کی سہولتوں اور ویکسین کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے ملک کی مختلف فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا دورہ کیا تھا۔ر