Sunday , September 22 2019

حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دینے کی تجویز نہیں: کشن ریڈی

حکومت کے فیصلے سوشیل میڈیا سے نہیں ہوتے، آندھراپردیش کا دارالحکومت تبدیل کرنے کی قیاس آرائیاں مسترد

حیدرآباد ۔ 21 ۔ اگست (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے واضح کردیا کہ حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دینے سے متعلق اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کو ملک کا دوسرا دارالحکومت بنانے کی کوئی تجویز مرکزی حکومت کے زیر غور نہیں ہے ۔ کشن ریڈی نے کہا کہ ہر کسی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ مرکزی حکومت کے فیصلے سوشیل میڈیا کے ذریعہ نہیں کئے جاتے۔ نئی ریاست آندھراپردیش کے دارالحکومت کو تبدیل کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان کشن ریڈی نے کہا کہ آندھراپردیش کا دارالحکومت تبدیل کرنے کے بارے میں مرکز کوئی فیصلہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ مسئلہ مرکز کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ کشن ریڈی نے آج حیدراباد کے صنعت نگر علاقہ میں ای ایس آئی سی میں 150 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے نئے بلاک کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر کشن ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم پر عمل آوری کی جانی چاہئے ۔ تلنگانہ حکومت کو اس سلسلہ میں توجہ دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آروگیہ شری بہتر اسکیم ہے تو پھر اسکیم کے سلسلہ میں دھرنے کیوں ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس حکومت نے مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم کو اختیار کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت آروگیہ شری کی طرح غریبوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہے۔ کشن ریڈی نے بی جے پی کے کارگزار قومی صدر جے پی نڈا کے بارے میں کے ٹی راما راؤ کے بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جے پی نڈا کو کوئی نہیں جانتا کہنا اچھی تہذیب کی علامت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر غرور اور تکبر میں اس طرح کا بیان دے رہے ہیں۔ اگر کے ٹی آر جے پی نڈا کو نہیں جانتے تو سابق میں کے ٹی آر نے نڈا سے بحیثیت وزیر کس طرح ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کے ٹی آر کے اس ریمارک پر شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا وجود نہیں ہے ۔ کشن ریڈی نے کے ٹی آر سے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بی جے پی نہیں ہے تو پھر ان کی بہن کویتا کو کس سے شکست ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا نشانہ صرف بلدی انتخابات نہیں ہے بلکہ 2023 ء میں ریاست میں اقتدار حاصل کرنا بی جے پی کا اہم مقصد اور مشن ہے۔ کشن ریڈی نے ریمارک کیا کہ بی جے پی کہاں ہے ، وہ کے ٹی آر اپنی بہن سے پوچھیں تو معلوم ہوجائے گا۔ 7 لوک سبھا حلقوں پر شکست کے بعد سے ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر نے سابق میں کئی مرتبہ ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ جے پی نڈا سے ملاقات کی تھی جب وہ مرکزی وزیر تھے لیکن آج اقتدار کے غرور میں کے ٹی آر جے پی نڈا سے ناواقفیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ بلدی انتخابات میں بی جے پی شاندار مظاہرہ کرے گی۔ کشن ریڈی نے کہا کہ میڈیکل کالج اور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کو ورکرس اور ملازمین کے لئے معنون کرنے پر انہیں مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب طلبہ کو صنعت نگر میڈیکل کالج میں نشستوں کا الاٹمنٹ اطمینان کا باعث ہے۔ تقریب میں ریاستی وزیر لیبر ملا ریڈی اور سابق مرکزی وزیر بنڈارو دتا تریہ نے شرکت کی ۔ بنڈارو دتاتریہ نے کہا کہ مرکزی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے ای ایس آئی ہاسپٹل منظور کیا تھا ۔ صنعت نگر ای ایس آئی میں میڈیکل کالج اور ہاسپٹل کے آغاز پر انہیں مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت نگر میڈیکل کالج بطور تحفہ دینے کا پیشکش کیا گیا تھا لیکن تلنگانہ حکومت نے اس تحفہ کو قبول نہیں کیا۔ مرکز کی مساعی سے میڈیکل کالج قائم ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صنعت نگر ہاسپٹل کا شمار ملک کے سرفہرست ہاسپٹلس میں ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT