ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کا انکشاف، حیدرآباد میں 695 جھیلوں کی تاریخ، حیڈرا سے متعلق اپوزیشن کے الزامات مسترد
حیدرآباد ۔7۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کانگریس حکومت جھیلوں اور تالابوں کی اراضیات کے تحفظ کے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کے اقدامات میں رکاوٹ پیدا کرنے اپوزیشن سے بے بنیاد الزام تراشیاں جاری ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں جھیلوں اور تالابوں پر پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعہ جھیلوں کی تعداد میں کمی اور ناجائز قبضوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حیڈرا کے نام پر حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حالانکہ حیڈرا قانونی طریقہ سے غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں سرکاری اراضیات ، تالابوں ، جھیلوں اور نالوں کے تحفظ کیلئے حکومت نے حیڈرا تشکیل دیا۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناکر انہوں نے کہا کہ حیڈرا کی انہدامی کارروائیوں کو بنیاد بناکر عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے موسی ریور فرنٹ پراجکٹ پر بھی پاور پوائنٹ پریزینٹیشن دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کوئی شخصی ایجنڈہ نہیں ہے اور جھیلوں کا تحفظ کرنا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ پر عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے واضح کیا کہ اس پراجکٹ پر کانگریس کا کوئی شخصی ایجنڈہ نہیں ہے۔ حکومت موسیٰ ندی کے حدود میں رہنے والے غریب خاندانوں کی بازآبادکاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کئے گئے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ حیدرآباد کبھی جھیلوں ، پہاڑوں اور پارکس کے شہر کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن حالیہ چند برسوں میں پہاڑ ، پارکس اور جھیلوں پر قبضے ہوچکے ہیں۔ جو جھیلیں بچ چکی ہیں ، ان کے تحفظ کے لئے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کو آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا شہر بنانے اور عالمی معیار کی انفراسٹرکچر سہولتیں فراہم کرنا حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں کئی جھیل اور تالاب غائب ہوچکے ہیں اور اگر موجودہ جھیلوں کا تحفظ نہیں کیا گیا تو بارش کی صورت میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ تلنگانہ میں پرجا پالنا ہے اور عوام کی بھلائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ 499 جھیلوں اور تالابوں میں 1996 پر جزوی قبضہ جات ہوچکے ہیں۔ 2014 تا 2023 جملہ 171 جھیلوں کی اراضیات پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ریاست کے قیام کے وقت 225 تالابوں پر مکمل غیر قانونی قبضہ ہوچکا تھا جبکہ 196 تالابوں کی اراضیات پر جزوی طور پر ناجائز قبصے کئے گئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ 2014 تک جملہ جھیلوں کی تعداد 695 تھی جن میں 499 محفوظ تھے جبکہ 196 پر جزوی قبضے جات ہوئے تھے۔ 2014 تا 2023 کے دوران جملہ 177 جھیلوں پر قبضہ جات ہوئے ہیں جن میں 44 پر مکمل قبضے ہوچکے ہیں جبکہ 127 پر جزوی قبضے ہوئے ۔ 1