خانگی اسکولس کا نصابی کتب پر حکومت کے احکام کی تعمیل سے گریز

   

حیدرآباد ۔ 30 اپریل (سیاست نیوز) شہر میں خانگی اسکولس محکمہ تعلیم کی جانب سے کلاس اول تا پنجم کی کتابوں سے متعلق جاری کئے گئے احکام کی خلاف ورزی کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور طلبہ کو دیگر پبلیکیشنس کی کتابیں خریدنے پر مجبور کررہے ہیں جو مہنگی ہیں۔ ٹی پی ٹی ایف صدر شیخ شبیر علی نے کہا کہ ہر نئے تعلیمی سال میں ہم خانگی اسکولس میں ایسا ہی دیکھتے ہیں جس میں اولیائے طلبہ کو اسکولس سے کتابیں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے جہاں کتابوں کی قیمت بازار سے 20 تا 30 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ خانگی اسکولس خواہ سی بی ایس ای بورڈ کے یا ایس ایس سی بورڈ کے ہوں۔ این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی کے نصابی کتابوں کا استعمال کرنے کے بجائے کلاس اول تا آٹھویں جماعت 8 کیمبرج اور آکسفورڈ کتابوں کا استعمال کررہے ہیں۔ تمام اسکولس میں صرف کتابوں کا سالانہ بزنس حیرت انگیز طور پر تقریباً 3000 کروڑ روپئے کا ہوتا ہے۔ اگر محکمہ تعلیم کی جانب سے اس طرح کے اسکولس کے خلاف کارروائی کی گئی تو بہتر ہوگا۔ ایک خانگی اسکول ٹیچر نیروپما نے کہا کہ ’’آئندہ تعلیمی سال سے چونکہ ریاستی حکومت نے سرکاری اسکولس میں انگلش میڈیم شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اس لئے حکومت کو اس بات کو لازمی بنانا ہوگا کہ تمام پرائمری اسکولس میں کلاس اول تا پنجم حکومت کے مقررہ نصاب پر لازماً عملدرآمد ہو۔ ایک شخص، نوین نے کہا کہ خانگی اسکولس اسکول فیس، کتابیں، یونیفارم، اسٹڈی میٹریل تمام طرح سے پیسہ لوٹ رہے ہیں۔ کلاس III کے طالب علم کیلئے بطور فیس 35,000 روپئے ادا کرنے کے بعد بھی انہوں نے نوٹ بکس اور اسٹڈی میٹریل کے نام پر مجھ سے مزید 5000 روپئے چارج کئے۔ یہ امر افسوسناک ہیکہ وہ ہر چیز اسکول ہی سے خریدنے کیلئے مجبور کررہے ہیں اور اسے لازمی بنارہے ہیں۔