آندھراپردیش حکومت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا
حیدرآباد ۔10 ۔ نومبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے آندھراپردیش حکومت کے خانگی میڈیکل کالجس کی فیس میں اضافہ کے فیصلہ کو کالعدم کردیا ۔ جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس سدھانشو دھولیا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے آندھراپردیش حکومت کے فیصلہ کو کالعدم کردیا جس میں خانگی میڈیکل کالجس کو فیس میں 7 گنا اضافہ کی اجازت دی گئی تھی۔ 2017 ء سے سالانہ فیس میں اضافہ کی اجازت دی گئی ۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کہا کہ پیشہ ورانہ کورسس کیلئے طئے شدہ فیس طلبہ کیلئے قابل قبول ہونا چاہئے اور تعلیم کو آمدنی کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ فیس ایسی ہو کہ طالب علم اداکر نے کی استطاعت رکھیں۔ حکومت نے فیس کو 24 لاکھ سالانہ کرنے کی اجازت دی جس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ طلبہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ تعلیم کوئی تجارت نہیں کہ جس سے منافع حاصل کیا جائے۔ حکومت نے فیس میں اضافہ کی اجازت کا جو فیصلہ کیا ہے وہ یکطرفہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ فیس کے تعین کیلئے جو ریگولیٹری کمیشن تشکیل دیا گیا اس کی سفارش کے بغیر فیس میں اضافہ کا فیصلہ درست نہیں۔ر