خلا میں مینوفیکچرنگ کے لیے نئی ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے :مودی

   

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ 2025 کے اوائل میں ہی ہندوستان نے خلائی میدان میں بہت سی تاریخی حصولیابیاں حاصل کی ہیں اور ابھی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس کا ایکسٹیم سینٹر خلا میں مینوفیکچرنگ کیلئے نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے ۔آل انڈیا ریڈیو پر ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ میں مودی نے کہا کہ آئی آئی ٹی مدراس کا ایکس ٹی ای ایم سینٹر خلا میں مینوفیکچرنگ کیلئے نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے ۔ یہ مرکز خلا میں 3 ڈی پرنٹڈ بلڈنگ، دھاتی فوم اور آپٹیکل فائبر جیسی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کر رہا ہے ۔ یہ مرکز پانی کے بغیر کنسنٹریٹ مینوفیکچرجیسے انقلابی طریقے بھی تیار کر رہا ہے ۔ ایکسٹیم کی یہ تحقیق ہندوستان کے گگنیان مشن اور مستقبل کے خلائی مرکز کو مضبوط کرے گی۔ اس سے مینوفیکچرنگ میں جدید ٹیکنالوجی کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ انڈین اسپیس اسٹارٹ اپ بنگلور کے پکسل نے ہندوستان کا پہلا نجی سیٹلائٹ کانسٹیلیشن فائر فلائی کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا ہے ۔ یہ سیٹلائٹ کانسٹیلیشن دنیا کا سب سے ہائی ریزولوشن ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کانسٹیلیشن ۔ اس حصولیابی نے نہ صرف ہندوستان کو جدید خلائی ٹکنالوجی میں ایک رہنما بنایا ہے بلکہ خود انحصار ہندوستان کی طرف ایک بڑا قدم ہے ۔ یہ کامیابی ہمارے نجی خلائی شعبے کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جدت کی علامت ہے ۔ پوری قوم کی طرف سے ، میں اس کامیابی کیلئے پکسل ٹیم، اسرو اور ان اسپیس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ہمارے سائنسدانوں نے خلائی شعبے میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی۔ سائنسدانوں نے مصنوعی سیاروں کی خلا میں ڈاکنگ کرائی ہے ۔ جب خلا میں دو سیٹلائٹ جڑتے ہیں تو اس عمل کو اسپیس ڈاکنگ کہتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خلا میں اسپیس سنٹرتک سپلائی بھیجنے اور اس میں گئے لوگوں کیلئے اہم ہے ۔ ہندوستان یہ کامیابی حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ سائنسدان خلا میں پودے اگانے اور انہیں زندہ رکھنے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کیلئے اسرو کے سائنسدانوں نے لوبیا کے بیج کا انتخاب کیا۔ 30 دسمبر کو بھیجے گئے یہ بیج خلاء میں ہی اگ آئے ۔