خواتین ریزرویشن ہمارا مشن تھا، ہماری جیت ہے : پرینکا گاندھی

   

نئی دہلی، 16 اپریل ( یو این آئی)کانگریس کی رکن پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے لوک سبھا میں جاری آئینی ترمیمی بل 131 (2026) پر بحث کے دوران بی جے پی حکومت پر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم مودی خود کو اس بل کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ریزرویشن فراہم کرنے کا تصور کانگریس کی دین ہے ۔پرینکا نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ خواتین کے مساوی حقوق کی بنیاد آزادی سے قبل رکھ دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 1928 میں ہی موتی لال نہرو نے بنیادی حقوق کی فہرست میں خواتین کے حقوق شامل کیے تھے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس دور میں ہی پنچایتوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دے کر آغاز کیا گیا تھا۔بی جے پی حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خواتین کو آزادی کے پہلے دن سے ہی ووٹ کا حق مل گیا تھا، جبکہ امریکہ جیسی جمہوریتوں میں خواتین کو اس حق کیلئے 150 سال انتظار کرنا پڑا۔پرینکا گاندھی نے بل کے موجودہ ڈھانچے اور حکومت کی نیت پر تنقید کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے : انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ‘ذات پات مردم شماری سے گھبرا رہی ہے اور او بی سی خواتین کو نظر انداز کر کے ناانصافی کر رہی ہے ۔انہوںنے تجویز دی کہ اگر حکومت مخلص ہے تو موجودہ لوک سبھا نشستوں کی بنیاد پر ہی خواتین کو فوری ریزرویشن دیا جا سکتا ہے ، بجائے اس کے کہ اسے پیچیدہ بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس بل میںسیاسی مفاد کی بو آ رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی نے 2019 میں ہی وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس بل کا مطالبہ کیا تھا، اور آج حکومت اسے اپنے سیاسی فائدے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔