جی او 317 رد کرنے کا مطالبہ ، نظام آباد مائناریٹی رائٹس پروٹیکشن فرنٹ کا چیف منسٹر کو مکتوب
نظام آباد : حکومت تلنگانہ کے سرکاری حکم نامہ جی۔او نمبر 317 کے اجرا ئی کے بعد سے محکمہ تعلیم اور اساتذہ برادری میں شدید بے چینی پید ا ہوگئی ہے۔ اس جی۔او کے تحت سرکاری اساتذہ کو نئے تقسیم ہوئے اضلاع میں ان کی سینیاریٹی کی اساس پر تبادلے کئے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اساتذہ کی ایک بڑی تعدادکو مقامی یعنی لوکل ہونے کے باوجود بھی اپنے ضلع کے بجائے نئے اضلاع میں تبادلہ کیا جارہا ہے۔ جس سے طلبا کی تعلیم شدید متا ثر ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اور ایس۔ایس۔سی کے سالانہ نتائج بھی کمزور برآمد ہوں گے۔ اساتذہ کے درمیانی تعلیمی سال تبادلہ کئے جانے سے اولیائے طلبا میں حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پیداہوگئی ہے۔ اور ساتھ ہی ٹیچرس کے سا تھ بھی سراسر زیادتی اور نا انصافی ہے۔ اس عمل سے ریاست میں لگ بھگ 22 ہزار اساتذہ کی مقامی حیثیت متاثر ہورہی ہے اور تقریباً 5 ہزار سے زائد اساتذہ کے اپیل فی الفور زیر التوا ہیں۔ان تبادلوں سے بہت سے ملازمین اور اساتذہ کی زندگی متاثر کن حالات سے دو چار ہورہی ہے۔ بحیثیت انسان ہر فرد اپنی نجی مسائل سے گھرا ہوا ہے۔ لیکن ان مسائل میں اگر انسان کا روزگار اور اس کی ملازمت ہی ایک مسئلہ بن جائے تو ایسی طرز زندگی کا کوئی حاصل نہیں۔ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو صاحب ملازمین اور اساتذہ کے تئیں ہمیشہ سے خیر خواہی کا معاملہ رکھتے آئے ہیں۔ نئے اضلاع میں ملازمین کی تقسیم کا عمل پر متعلقہ محکمہ جات کے اعلی افسران کی خاطر خواہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی بنا پر حکومت پر اساتذہ اور ملازمین کی ناراضگی کا اظہار ہورہا ہے۔ ان حالات میں وزیر اعلی کے سی آر صاحب اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فی الفور جی او نمبر 317 کو رد کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل تشکیل دیں جس سے اساتذہ اور ملازمین کی مقامی حیثیت کومتاثر کئے بغیر ان کے تبادلے عمل میں ائیں تو یہ حکومت تلنگانہ کے اساتذہ اور ملازمین کے حق میں ایک بہترین اقدام ہوگا جس سے ان کی فلاح و بہبود متاثر نہ ہوگی اور یہ حکومت ملازمین اور اساتذہ کے حق میں ایک خوشگوار ماحول مہیا کرسکے گی۔ اساتذہ اور ملازمین کو زبردستی نئے اضلاع میں تبادلہ کرنے کے بجائے حکومت کنٹراکٹ پر ملازمین اور ویدیا والینٹرس کے تقررات کرتے ہوئے بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرسکتی ہے۔ جس سے حکومت پر زیادھ مالی بار بھی عائد نہیں ہوگا۔ ان ہی تمام حالات کے پیش نظر مائناریٹی رائٹس پروٹیکشن فرنٹ ضلع نظام آباد کے صدر مسرز خواجہ معین الدین نے ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلی جناب کے چندر شیکھر راو اور کے ٹی آر کو مشاورت کے لیے ایک مکتوب ارسال کیا۔جس میں جی او نمبر 317 کا اساتذہ اور ملازمین اور ان کی زندگیوں پر کتنا منفی اثر پڑے گا اس بات کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے حکومت سے پر زور اپیل کی کہ فوری جی او نمبر 317 کو رد کرتے ہوئے نیا لائحہ عمل ترتیب دے کر نئے اضلاع میں مخلوعہ جائیدادوں پر ودیا والینٹرس کا تقرر کیا جائے اور دیگر محکموں کے لیے عارضی ملازمین کا تقرر کرتے ہوئے مذکورہ مسئلہ کی یکسوئی کی جائے۔