دریاؤں کے پانی کی تقسیم میں تلنگانہ سے ناانصافی کیلئے بی آر ایس ذمہ دار

   

محبوب نگر کے آبپاشی پراجکٹس نظر انداز، وزیر سیاحت جوپلی کرشنا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔10۔ اپریل (سیاست نیوز) وزیر سیاحت جوپلی کرشنا راؤ نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں آبپاشی پراجکٹس تکمیل اور دریاؤں کے پانی میں تلنگانہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے۔ سی ایل پی آفس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں متحدہ محبوب نگر ضلع کے آبپاشی پراجکٹس متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے عوام سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست قائم کی اور کے سی آر نے اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر ضلع سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں بی آر ایس حکومت ناکام ہوگئی۔ گولا پلی ذخیرہ آب کی تعمیر کیلئے 2016 میں 25 ٹی ایم سی پانی مختص کرتے ہوئے جی او جاری کیا گیا۔ بی آر ایس حکومت میں مارچ 2019 میں پراجکٹ کے لئے پیشرفت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت نے سری سیلم سے برقی پیداوار کا آغاز کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی لیکن بی آر ایس حکومت نے خاموشی اختیار کرلی۔ کے سی آر نے چیف منسٹر کی حیثیت سے دریائے کرشنا کے پانی میں آندھراپردیش کے لئے 512 ٹی ایم سی اور تلنگانہ کیلئے 299 ٹی ایم سی کی سربراہی کے معاہدہ پر دستخط کئے۔ بی آر ایس کے 10 برسوں میں محبوب نگر کے پراجکٹس پر 7000 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس حکومت نے 8300 کروڑ خرچ کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت سیاسی انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی ، لہذا گزشتہ دو برسوں میں محبوب نگر ضلع میں ایک بھی بی آر ایس لیڈر کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ کرشنا راؤ نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک اور تلنگانہ میں آئندہ انتخابات میں کانگریس برسر اقتدار آئے گی اور آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے راہول گاندھی کو وزیراعظم کے عہدہ پر فائز کرنے کا عہد کیا ہے۔m/b/1/k