دستور کو بدل کر منواد کی سازش مہیش کمار گوڑ کا الزام

   

حیدرآباد میں انڈین یوتھ کانگریس کے نیشنل لیگل کانکلیو سے خطاب

حیدرآباد ۔ 4 جولائی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ نے مرکزی بی جے پی حکومت اور آر ایس ایس کو پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دستورہند جمہوریت کی روح ہے لیکن اس مقدس دستور کو تبدیل کرتے ہوئے ملک میں ’’منواد آئین‘‘ نافذ کرنے کی ایک بڑی غیرجمہوری سازش رچی جارہی ہے جس کو کانگریس کبھی کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ انڈین یوتھ کانگریس کے زیراہتمام حیدرآباد میں منعقدہ ’’نیشنل لیگل کانکلیو 2026ء‘‘ کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے بی جے پی کے انتخابی نعروں پر سخت طنز کرتے ہوئے استفسار کیا۔ بی جے پی حکومت ملک میں ترقی کے نام پر نہیں بلکہ صرف بھگوان رام کے نام پر تیسری مرتبہ برسراقتدار آئی ہے۔ میں بی جے پی کے قائدین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا بھگوان رام بی ج پی پارٹی کے رکن ہیں؟ کیا آپ میں ہمت ہے کہ آپ ترقی، روزگار اور مہنگائی پر عوام سے ووٹ مانگ پائیں گے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ مودی اور امیت شاہ کا تکبر آمیز انداز بی جے پی حکومت کے زوال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں گاندھی اور نہرو کی عظیم وراثت کو ملک کی تاریخ سے مٹانے کی ناکام کوشش کررہی ہیں جبکہ پنڈت نہرو دنیا کے ایک عظیم ویژنری لیڈر تھے اور گاندھی خاندان ملک کیلئے دی گئی لازوال قربانیوں کا دوسرا نام ہے۔ انہوں نے SIR کے عمل کو حقیقی ووٹوں کو فہرست رائے دہندگان سے خارج کرنے منظم سازش قرار دیا۔ دستور کی حفاظت کیلئے راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانے کیلئے کمربستہ ہوجانے کا یوتھ قائدین کومشورہ دیا۔2