دفتر وزیراعظم وزیر کی تشہیر کے دفتر میں تبدیل : راہول گاندھی

AGARTALA, MAR 20 (UNI):- Congress President Rahul Gandhi waving supporters at a public meeting at Khumpui Academy Ground, Khumulwng near Agartala on Wednesday. UNI PHOTO-116U

وزیراعظم کی نظر میں عوام آلۂ کار ، درحقیقت وہ صاحب بصیرت ، پرینکا گاندھی کی یوپی میں تقریر
امپھال ۔20 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم کے دفتر کو وزیر کی تشہیر کے دفتر میں تبدیل کردیا ہے ۔ انھوں نے انتہائی نفیس ملک کو درمیانی درجہ کا بنادیا ہے ۔ راہول گاندھی یہاں منگل کی شام اروناچل پردیش سے پہونچے تھے جہاں انھوں نے ریاست منی پور فلم ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے طلبہ سے ریاستی دارالحکومت میں تبادلۂ خیال کیا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس سامراجی تمدن میں یقین نہیں رکھتی اور اگر اس کا یہ نظریہ ہوتا تو ملک کے ایک حصہ میں ایک پارٹی اور دوسرے حصہ میں دیگر مختلف پارٹیوں کا اقتدار نہ ہوتا۔ انھوں نے کہاکہ وہ ہر ایک کی آواز کا احترام کرتی ہے ، تاہم نریندر مودی زیرقیادت حکومت میں ایسا نہیں ہے ۔ ملک کے ہر حصہ کو اظہارخیال کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس اتحاد چاہتا ہے کہ اپنا نظریہ دوسروں پر مسلط کرے اور دوسروں کے نظریات کو کچل دے۔ اُن کا یہ پاگل پن احتجاجی مظاہروں میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ شمال مشرقی ہندوستان میں راہول گاندھی نے کہا کہ بیروزگاری کا بحران بڑھتا ہی جارہا ہے اور جب کبھی اس کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے تو حکومت کی طاقت کا مظاہرہ دیکھا جاتا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہمارے نقطہ نظر سے اس علاقہ میں پیداواری مرکز بن جانے کی صلاحیت موجود ہے ۔ زرعی شعبہ میں ، غذائی اجناس اور ترکاریاں ضائع ہورہی ہیں جبکہ یہاں پر ذخیرہ کرنے کی سہولتیں دستیاب نہیں ہے۔ غذائی مصنوعات کی تیاری کی صنعتیں منی پور میں قائم کی جاسکتی ہیں۔ امپھال میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ وزیراعظم نے 2018 ء میں روزآنہ 20 ہزار ملازمتوں کے مواقع ضائع کئے ہیں ۔ انھوں نے ملک کے ایک کروڑ ملازمتوں کے مواقع تباہ کردیئے اور یہ عمل ہنوز جاری ہے ۔

وزیراعظم نے دو کروڑ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن اس کی تکمیل نہیں کی ۔ مرکزی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ اگر میں اور میری پارٹی مرکز میں برسراقتدار آجائے تو ہم اُنھیں جینے کا موقع فراہم کریں گے ۔ گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ کیا یہ صرف ایک مذاق ہیں۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ جب بھی وزیراعظم نے منی پور کا دورہ کیا انھوں نے آپ کے تہذیب و تمدن اور تاریخ کی بات کی لیکن جیسے ہی واپس گئے اس کو بھلادیا ۔ اپنے قول کو عمل کی صورت کبھی نہیں دی ۔ انھوں نے جاننا چاہا کہ مرکز نے اب تک شمال مشرق ایشیاء اور ہندوستان کی فلاح و بہبود کے لئے کیا کارروائی کی ہے ۔ دریں اثناء مرزا پور سے موصولہ اطلاع کے بموجب راہول گاندھی کی ہمشیرہ پرینکا گاندھی جنھیں پارٹی اُمور کا مشرقی یوپی کے لئے انچارج بنایاگیا ہے اپنے دورہ پر یوپی پہونچ چکی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو عوام کو آلۂ کار سمجھنا ترک کردینا چاہئے ۔ اُن کی سمجھ میں آجانا چاہئے کہ عوام صاحب بصیرت ہوتے ہیں اور وہ ہرچیز کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں۔ کانگریسی قائد نے دریائے گنگا میں اپنے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام دریائے گنگا کے کناروں پر زیادہ تعداد میں رہتے ہیں اور وہ اُن تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ وزیراعظم نے اس ملک کا ہر محکمہ گزشتہ پانچ سال سے اپنی خدمت کیلئے وقف کر رکھا ہے حالانکہ یہ عوام کی خدمت کیلئے قائم کئے گئے تھے ۔ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ عوام آلۂ کار ہیں، اُنھیں اب سمجھ لینا چاہئے کہ عوام صاحب بصیرت ہیں اور ہر چیز کی حقیقت سے واقف ہیں۔ اگر ہم عوام کی تائید میں کچھ کام کرتے ہیں تو ہمیں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اس حکومت نے عوام کو صرف انتخابات کے دوران اپنے تیقنات سے خوش کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس زیرقیادت حکومت مرکز میں برسراقتدار آجائے تو طمانیت روزگار کو اولین ترجیح دے گی ۔ انھوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لئے اُن کی پارٹی کام کرے گی ۔ جنرل سکریٹری کانگریس پرینکا گاندھی وڈرا چہارشنبہ کے دن اپنے آبائی حلقہ کا دورہ کریں گی ۔

TOPPOPULARRECENT