ٹوئیٹر پر ریونت ریڈی کا اعتراض، کانگریس کی جانب سے عوامی احتجاج کی دھمکی
حیدرآباد۔13۔ مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں ٹی آر ایس دفتر کے لئے قیمتی اراضی کے الاٹمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ٹوئیٹر پر ریونت ریڈی نے لکھا حکومت نے ٹی آر ایس کے لئے بنجارہ ہلز کے علاقہ میں 4935 مربع گز اراضی الاٹ کی ہے جس کی مالیت تقریباً 100 کروڑ روپئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں دلتوں کو تین ایکر اراضی الاٹ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گریجن طبقات کے لئے یونیورسٹی قائم کرنے حکومت نے ابھی تک اراضی الاٹ نہیں کی ۔ برخلاف اس کے ٹی آر ایس سٹی آفس کے لئے بنجارہ ہلز میں 100 کروڑ مالیتی اراضی الاٹ کرتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت قومی اثاثہ جات کو لوٹ رہی ہے۔ عوام کی بھلائی سے حکومت کو کوئی مطلب نہیں۔ اسی دوران اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر شراون نے حیدرآباد میں ٹی آر ایس دفتر کے لئے اراضی کے الاٹمنٹ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے ذمہ داروں نے کروڑہا روپئے مالیتی اراضی حاصل کرلی ہے۔ اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے یہ اراضی منظور کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بنجارہ ہلز کے علاقہ میں پہلے ہی سے ٹی آر ایس کا ریاستی دفتر موجود ہے، ایسے میں سٹی آفس کیلئے اراضی کی کیا ضرورت تھی ۔ انہوں نے اراضی الاٹمنٹ کے جی او کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی عوامی ایجی ٹیشن منظم کرے گی۔ ڈاکٹر شراون نے چیف سکریٹری سومیش کمار اور خیریت آباد کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر پر پارٹی قیادت کے اشارہ پر کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سرکاری اراضی پر پارٹی دفتر قائم کرنا کہاں تک درست ہے۔ چیف سکریٹری اپنی کرسی بچانے کیلئے حکومت کے اشارہ پر کام کر رہے ہیں۔ کانگریس حکومت نے 2004 ء میں ٹی آر ایس بھون کیلئے 4840 مربع گز اراضی الاٹ کی تھی۔ کے سی آر نے گائیڈ لائینس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طریقہ سے ایک خانگی نیوز چیانل کا آفس پارٹی دفتر میں قائم کردیا۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ جی او سے عدم دستبرداری کی صورت میں کانگریس پارٹی احتجاج منظم کرے گی۔ر