جنتر منتر پر طلباء کا احتجاج جمہوریت باقی رہنے کی دلیل ‘ اوڈیشہ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس کا لیکچر
بھوبنیشور 29 اگسٹ ( ایجنسیز ) سینئر ایڈوکیٹ و اوڈیشہ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر ایس مرلیدھر نے جنتر منتر پر طلباء و نوجوانوں کے حالیہ احتجاج کی ستائش کی ہے اور کہا کہ یہ ہندوستانی جمہوریت کیلئے اچھی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ دماغی نکسل کی اصطلاح سیاسی بحث کو ہوا دے رہی ہے تاہم یہ ایک اچھی علامت ہے کہ ہندوستان کی نوجوان نسل نہ تو اس طرح کی بیان بازی سے متاثر ہوتی ہے اور نہ ہی اسے دماغی نکسل کہہ کر رسواء کرنے کی کوششوں کی پرواہ کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں طلباء کا احتجاج جمہوریت کیلئے حوصلہ افزاء ہے وہیں حکومت کی جانب سے فوجداری نظام انصاف کا ان کے خلاف بیجا استعمال کرنا اور پرامن احتجاجیوں کو حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے قرار دینا درست نہیں ہے ۔ جسٹس مرلیدھر نے کہا کہ طلباء اور نوجوانوں کے احتجاج نے واضح کردیا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ختم نہیں ہوگی بلکہ باقی رہے گی ۔ طلباء اور نوجوانوں کا احتجاج ملک کی جمہوریت کیلئے ایک اچھی علامت ہے ۔ انہوں نے لفظ دماغی نکسل کے استعمال کے تعلق سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور طلباء کو دماغی نکسل قرار دینے کے باوجود نوجوان اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس طرح کی اصطلاحات نوجوانوں کو روک نہیں سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کو سیاسی بیان بازیوں یا پروپگنڈہ کی مدد سے روکا نہیں جاسکتا ۔ نوجوان نسل اس طرح کی اصطلاحات کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہے ۔ جسٹس مرلیدھر نے کہا کہ نوجوان نسل کے احتجاج سے ہمیں یقین ہوچلا ہے کہ اس ملک میں جمہوریت باقی رہے گی ۔ جمہوریت ختم نہیں ہوگی ۔جسٹس مرلیدھر ڈی ایس بورکر میموریل لکچر دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل میں مزاحمت کا جو جذبہ ہے وہ جمہوریت کی ترقی کی عکاسی کرتا ہے ۔ انہوں نے 2047 کے ویژن کے تعلق سے کہا کہ اگر آج کے ججس سرکاری مظالم کی شکایات پر فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہیں تو 2047 میں جمہوری نظام بہتر ہوسکتا ہے ۔