دمشق : اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق سمیت حمص اور درعا کے شہروں پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی فوج کے طیاروں نے دمشق کے شمال میں واقع تل مونین کے علاقے کو نشانہ بنایا جس میں سدنیا جیل کے آس پاس کا علاقہ شامل ہے جو بشار الاسد حکومت کے ٹارچر سینٹر کے طور پر جانا جاتا ہے، ملک کے جنوب میں درعا شہر میں حکومتی افواج کے ہتھیاروں کا ڈپو اور حمص شہر شامل ہیں۔8 دسمبر کو 61 سالہ اسد حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی، 27 نومبر کو شام میں دشمنی میں شدت کے بعد شام پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔اسرائیلی فوج، جس نے حکومتی فوج کی طرف سے چھوڑے گئے فوجی انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا اس نے گولان کی پہاڑیوں پر اپنے قبضے میں توسیع کی ہے جو شام کا علاقہ ہے۔گولان کی پہاڑیوں کے آس پاس بفر زون میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج نے قبضے کو مزید آگے بڑھایا اور دارالحکومت دمشق کے 25 کلومیٹر کے اندر گھس گئی۔
اسرائیل نے شام کے قنیطرہ میں بجلی اور سڑکوں کا نظام تباہ کردیا
دمشق: اسرائیل کی جانب سے شام کے فوجی ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر حملے جاری ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بشار الاسد اور ان کی حمایت یافتہ فوج کے فرار ہونے کے بعد اسرائیل مسلسل شامی فوج کے اسلحے کے ذخائر اور فوجی سازوسامان کو تباہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں میں شام کے فوجی ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر 61 میزائل حملے کیے گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج شام کے شہر قنیطرہ میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقہ جبری خالی کرانے کیلیے پانی و بجلی اور سڑکوں کا نظام تباہ کردیا ہے۔