دنیا میں طیاروں کے بڑھتے حادثات پر تشویش

   

نیویارک ؍ پیرس ؍ بیجنگ : رواں برس 29 جنوری کو واشنگٹن کے دریائے پوٹومک میں طیارہ گر کر تباہ ہونے کے واقعے نے امریکہ میں ایک بار پھر فضائی سفر کے محفوظ ہونے کی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس واقعہ میں 67 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ طیاروں کے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ ڈیٹا اس سے مختلف تصویر دکھاتا ہے۔ ایئربس کمانڈر پیریکو ڈورین 24 سال سے ہوا بازی کی صنعت سے وابستہ ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر ایئرسیفٹی سے متعلق اپنی معلومات افزا ویڈیوز کی وجہ سے بہت مقبول بھی ہیں۔ ڈورین کا کہنا ہے کہ فضائی حادثوں میں اضافے کا تاثر اعداد و شمار کے برخلاف ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن میں ہونے والے حادثے سے قبل ایسا فضائی حادثہ 2013 میں ہوا تھا جس میں اموات بھی ہوئی تھیں۔ 12 سال تک کمرشل ایوی ایشن میں ایک بھی حادثہ نہیں ہوا جن میں آئی اے ٹی اے (انٹرنیشنل ایئرٹرانسپورٹ اسوسی ایشن) میں شامل کمپنیوں میں سے کسی کا نام آتا ہو۔ دنیا بھر میں کام کرنے والی ایئرلائنز کی تنظیم انٹرنیشنل ایئرٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق فضائی سفر پہلے سے زیادہ محفوظ ہوا ہے۔ تنظیم کے مطابق 2000 سے 2010 کی ایک دہائی کے دوران ہر سال اوسطاً 13 کمرشل طیارے حادثہ کا شکار ہوئے۔ جب کہ اس سے اگلی دہائی میں پرازوں کی تعداد تین کرورڑ تک پہنچ گئی لیکن ہر سال ہونے والے حادثات کی اوسط تعداد 9 پر آ گئی۔ سال 2020 کے بعد شروع ہونے والی دہائی میں دنیا بھر میں کمرشل طیاروں کی پروازیں چار کروڑ تک پہنچ گئی جن میں ہرسال حادثات کی شرح 4.4 رہی جب کہ 2023 میں ان چار کروڑو پروازوں میں سے صرف ایک پرواز حادثہ کا شکار ہوئی۔ ڈورین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا میں کسی ایک انڈسٹری نے اپنی سیفٹی بڑھائی ہے تو وہ کمرشل ایوی ایشن کی صنعت ہے۔ میامی اور فلوریڈا میں ہوا بازی کی تربیت دینے والے گونزالو زولیٹا خاص طور پر امریکہ میں ایئر سیفٹی سے متعلق اعداد و شمار کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن(ایف اے اے) روزانہ 45 ہزار پروازیں ہینڈل کرتی ہے اور اس حساب سے ایک سال میں ان کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ بنتی ہے۔ ان پروازوں میں 30 لاکھ مسافر بحفاظت اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔