Friday , August 23 2019

دہلی۔ کتے کو اینٹ پھینک کر مارنے پر ٹیلر کا قتل ‘ ملزم فرار

مصروف ترین گلی میں خاموشی چھائی ہوئی ہے ‘زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے‘ ایک دس کے معصوم لڑکے نے کہاکہ ’’ میں نے کچھ پٹاخوں کی آوازیں سنیں اور دیکھا کے لوگ بھاگ رہے ہیں‘‘

نئی دہلی۔ پیر کے روز نارتھ ایسٹ دہلی کی جنتا کالونی میں بند کمرے میں مقفل جرمن شیپارڈ جیک نامی کتا سب کی مرکز توجہہ بنا ہوا ہے‘ ایک روز قبل اس کے مالک نے مبینہ طور پر ایک تیس سالہ شخص کو محض اس لئے گولی مار کر ہلاک کردیا کیونکہ متوفی شخص نے اس کے پالتو کتے کو اینٹ پھینک کر مارا تھا۔ملزم34سالہ مہتاب کے ساتھ اس کے گھر والے بھی فرار بتائے جارہے ہیں ‘ اس کے بعد پڑوسیوں نے جیک کو مقفل کردیا‘ اور اسے بسکٹ کھانا فراہم کررہے ہیں۔

ویلکم پولیس اسٹیشن میں ائی پی سی کی دفعہ 302( قتل) اور سیکشن 27برائے ارمس ایکٹ کے تحت مہتاب کے خلاف ایف ائی آر درج کیاگیا ہے۔ڈی سی پی ( نارتھ ایسٹ) اتل کمار ٹھاکر نے کہاکہ ’’ ملزم کے خلاف سابق میں اٹھارہ مقدمات درج ہیں’ جس میں ڈاکہ زنی بھی شامل ہے۔

وہ ایک مصدقہ مجرم ہے اور سال2006نومبر میں وہ جیل سے رہا ہوا ہے‘‘۔ پولیس کے مطابق متوفی30سالہ آفاق علی ایک ٹیلر تھا جسکو مہتاب کے گھر کے روبرو آندھیری گلی میں گولی مارکر ہلاک کردیاگیا۔

متوفی کے بیوی اور تین بچے ہیں۔ علی کی ساس کنیز فاطمہ نے اسے موقع پر دیکھا’’ زمین پر سر جھکائے در د سے وہ رورہاتھا‘‘پانچ بجے کے قریب اس کو اسپتال لے جایاگیا تھا۔انہوں نے دعوی کیاکہ ’’ موقع پر بہت سارے لوگ موجود تھے ‘ مگر کسی نے نہیں بتایاکہ کیاواقعہ ہوا ہے۔

جب میں اسے اسپتال لے جاتے وقت بات کی تو اس نے بتایاکہ اس کا پیچھا کرنے والے کتے کو اینٹ پھینک کر مارنے کی وجہہ سے مہتاب نے مجھ پر گولی چلائی ‘‘۔

شوکت کی جانب سے دائر کردہ ایف ائی آر میں الزام ہے کہ علی نے انہیں بتایا’’ جب میں نے کتے کو مار ‘ مہتاب نے کہاکہ’’ تو نے کتے کو اینٹ کیسے مار دی‘ ابھی بتاتاہوں تجھے‘‘ ۔

پھر اس نے مجھ پر گولی چلائی‘‘۔ علی کو جی ٹی بی اسپتال لے جایاگیا ‘ جہاں پر اسے مردہ قراردیاگیا۔مصروف ترین گلی میں خاموشی چھائی ہوئی ہے ‘زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے‘ ایک دس کے معصوم لڑکے نے کہاکہ ’’ میں نے کچھ پٹاخوں کی آوازیں سنیں اور دیکھا کے لوگ بھاگ رہے ہیں‘‘۔

ایک تیس سالہ مقامی جس نے نام ظاہر نہ کرنے کو کہا اس کا دعوی ہے کہ ’’ ہر کوئی مہتاب کی فیملی سے خوفزدہ ہے۔

وہ فوری طور پر تصادم پر اتر آتے ہیں۔ کئی لوگوں پر اس نے معمولی باتوں پر بھی بندوق نکال لی ہے۔ اس نے پہلے بھی جیل کاٹی ہے۔ یہ چھوٹی کالونی ہے یہاں پر باتیں تیزی کے ساتھ پھیلتی ہیں ‘ لہذا کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ مہتاب او راس کی فیملی کے خلاف بات کرے‘‘

TOPPOPULARRECENT