دہلی فسادات : انگلش و کمپیوٹر سنٹر پر قبضہ، دیگر کوچنگ سنٹرس بھی بند

,

   

٭ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی مدد سے
زندگی کے نئے سفر کا آغاز
٭ حیدرآبادیوں سے زید سیفی کا اظہار ممنونیت

حیدرآباد: دہلی فسادات میں دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ ہوگیا ، زندگی پریشانیوں میں گھر گئی۔ فرقہ پرستوں کی دھمکیوں کے نتیجہ میں کوچنگ سنٹرس سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ شادی ہونے والی تھی فسادات اور پھر کورونا کی وباء نے اسے بھی روک دیا۔ اب یہی فکر لاحق ہے کہ اپنی بقاء کو کس طرح یقینی بنائیں، کیسے اپنے انگریزی سکھانے کے مراکز کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ فسادات نے ہماری تو کمریں توڑ دی تھی سب کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل دکھائی دے رہا تھا ، ان حالات میں حیدرآباد کے روزنامہ ’سیاست‘ کے ملت فنڈ اور حیدرآباد کے ہی فیض عام ٹرسٹ ہماری مدد کیلئے آگے آئے اور ہمارا ساتھ دیا۔ ان خیالات کا اظہار دہلی کے شیو وہار اور دیگر مقامات پر انگریزی اور کمپیوٹر سکھانے کے 6 کوچنگ سنٹرس چلانے والے زید سیفی نے ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں اور فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین کے ساتھ ساتھ ہم حیدرآباد کے نیک دل عوام کا بطور خاص شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے فسادات متاثرین کی انتہائی مشکل وقت میں مدد کی جس کیلئے وہ ان تمام کیلئے بارگاہ رب العزت میں دعاگو رہتے ہیں۔زید سیفی کے مطابق پچھلے دس برسوں سے وہ اور ان کے بھائی شیو وہار اور دوسرے علاقوں میں 6 کوچنگ سنٹرس چلارہے ہیں لیکن شیو وہار اور مصطفے آباد میں فسادات پھیلنے کے نتیجہ میں ان تمام کوچنگ سنٹرس کو بند کرنا پڑا ۔ اس سنٹر سے فسادات کے دوران 20 کمپیوٹر س کا سرقہ کرلیا گیا ۔ چونکہ فسادات کے دوران مسلمان ڈرے اور سہمے ہوئے تھے اس لئے زید سیفی بھی اپنا کوچنگ سنٹر دیکھنے سے قاصر رہے۔ بعد میں انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ وہ شیو وہار میں انسٹی ٹیوٹ نہ چلائیں ، اب وہاں وہ کوچنگ سنٹر غیر مسلم مکاندار کا بیٹا چلارہا ہے۔ زید سیفی اور ان کے بھائیوں کو بیدخل کردیا گیا ہے۔ زید سیفی نے یہ بھی بتایا کہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ سے ملی امداد کو کرایوں کی ادائیگی پر صرف کیا جبکہ عارضی طور پر مقامی سطح پر ایک کوچنگ سنٹر شروع کردیا ہے جس میں چند بچوں نے داخلہ لیا۔ جبکہ فسادات سے قبل سو سے زائد طلبہ تربیت حاصل کرتے تھے۔ زید سیفی کے والدین ضعیف ہیں وہ اپنے بچوں کی دس سالہ محنت کو تباہ کرنے پر افسردہ ہیں لیکن اپنے رب سے اُمید لگائے ہوئے ہیں کہ ان کی اولاد انشاء اللہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی۔