بھٹی وکرامارکا اور مہیش کمار گوڑ کا خطاب، پارلیمنٹ میں بی سی تحفظات کی جدوجہد کی تائید کا اعلان
حیدرآباد۔/2 اپریل، ( سیاست نیوز) پسماندہ طبقات کو تعلیم اور روزگار میں 42 فیصد تحفظات کے مطالبہ پر آج نئی دہلی میں بی سی طبقات کی جانب سے ’ مہا دھرنا ‘ منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں بی سی تنظیموں کے نمائندوں نے حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ میں 42 فیصد بی سی تحفظات کو منظوری دینے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے علاوہ انڈیا الائینس میں شامل ڈی ایم کے اور این سی پی کے ارکان نے دھرنا سے خطاب کیا۔ تلنگانہ میں حکومت کی حلیف مجلس کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے دھرنا میں حصہ لیتے ہوئے بی سی تحفظات کے مطالبہ کی تائید کی۔ ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنی مولی اور این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مکمل تائید کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی معاشی و تعلیمی ترقی کیلئے تلنگانہ حکومت نے 42 فیصد تحفظات کا جو فیصلہ کیا ہے وہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں تحفظات بل کی منظوری میں تعاون کا یقین دلایا۔ ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنی مولی نے کہا کہ ان کی پارٹی بی سی تحفظات میں اضافہ کی مکمل تائید کرتی ہے۔ تلنگانہ میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں طبقاتی سروے کے ذریعہ بی سی طبقات کو جائز حصہ دیا جانا چاہیئے۔ کنی مولی نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت پسماندہ طبقات کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مودی حکومت کی غیر جمہوری اور غیر دستوری کارکردگی کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مخصوص زبان اور تہذیب کو ملک بھر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ مرکزی حکومت طبقاتی سروے سے گریز کررہی ہے جس کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی ستائش کی اور کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ کسی ریاست نے طبقاتی سروے کے ذریعہ کمزور طبقات کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اس سلسلہ میں تائید کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے ذریعہ دستور کے نویں شیڈول میں شامل کیا جانا چاہیئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا ، ریاستی وزراء پونم پربھاکراور کونڈا سریکھا نے بھی خطاب کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ستائش کی اور کہا کہ ان کی سنجیدگی کے نتیجہ میں تلنگانہ میں طبقاتی سروے مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کو متحدہ طور پر بی سی تحفظات میں اضافہ کی مہم میں حصہ لینا چاہیئے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس قائد راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے موقع پر پسماندہ طبقات کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قومی سطح پر طبقاتی سروے کی مانگ کی۔ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جس نے سروے کی تکمیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کاماریڈی ڈیکلریشن میں عوام سے جو وعدے کئے تھے ان کی تکمیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں میں کے سی آر نے پسماندہ طبقات کو نظرانداز کردیا۔ تلنگانہ نے بی سی طبقات سے انصاف کے معاملہ میں ملک کو نئی روشنی دکھائی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تمام ریاستوں کو متحدہ طور پر مرکز پر دباؤ بنانا چاہیئے۔1