ہندوستانی آئین کو مقدم رکھنے نعرے بازی۔ کئی مظاہرین زیر حراست
نئی دہلی۔ یکم؍ ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کی ہلدوانی میں توہین اور اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھانے پر لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے مخالفت میں منگل کے روز پارٹی کے قومی ترجمان ڈاکٹر ادت راج کی قیادت میں یہاں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ہیڈکوارٹر کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ ڈاکٹر ادت راج نے اس موقع پر کہا کہ ایک طرف آئین، سماجی برابری اور احترام کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور دوسری طرف اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر ہی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہلدوانی میں کھرگے کی ریلی کے بعد بی جے پی سے جڑے لوگوں کے ذریعہ ریلی کے مقام کا شُدّھی کرن کرایا گیا اور بعد میں بی جے پی کے ریاستی صدر نے بھی اس کارروائی کی حمایت کی۔ اس واقعہ کے خلاف مسٹر گاندھی نے آواز اٹھائی اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی نیز ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن قصورواروں پر کارروائی کرنے کے بجائے گاندھی کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کر دی گئی، جو جمہوری احتجاج کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے ۔ ڈاکٹر راج نے کہا کہ کسی بھی شخص کی ذات کی بنیاد پر اہانت صرف ایک شخص نہیں بلکہ پورے دلت سماج کی اہانت ہے ۔ یہ آئین میں درج مساوات ، وقار اور سماجی انصاف کی قدروں پر بھی حملہ ہے ۔ مظاہرے کے دوران مظاہرین نے سنگھ کے لباس اور منواسمرتی کی کاپیاں جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ اس دوران مظاہرین نے زبردست نعرے لگائے ’’ملک منواسمرتی سے نہیں، بھارتی آئین سے چلے گا‘‘۔