دہلی ووٹر لسٹ سے حذف ووٹروں سے دوبارہ

   

فارم 6 بھرنے کو کیوں کہا جارہا ہے‘سپریم کورٹ کا سوال

نئی دہلی، 28 اکتوبر( ایجنسیز ) سپریم کورٹ نے دہلی کی مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ووٹروں سے دوبارہ فارم 6 جمع کرانے کے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب ووٹروں کے نام 2026 کی ووٹر لسٹ میں پہلے سے موجود تھے تو انہیں نئے ووٹر کی طرح دوبارہ رجسٹریشن کرانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ دہلی میں ووٹروں کی فہرست پر خصوصی نظرثانی کے خلاف انجو بھردواج اور امرتا جوہری کی درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔عدالت نے نشاندہی کی کہ فارم 6 عام طور پر نئے ووٹروں کے اندراج کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ایسے ووٹر جن کے نام پہلے ووٹر لسٹ میں شامل تھے لیکن وہ کسی وجہ سے انیومریشن فارم جمع نہیں کرا سکے ان کیلئے متبادل طریقہ اختیار کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 47 لاکھ ووٹروں کے نام مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 43 لاکھ افراد کو مستقل طور پر منتقل یا غیر حاضر قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد ووٹروں تک انیومریشن فارم پہنچ ہی نہیں سکا، لیکن اب انہیں فارم 6 جمع کرانے کیلئے کہا جا رہا ہے جس میں یہ اعلان کرنا پڑ سکتا ہے کہ وہ پہلے کسی ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ نہیں تھے۔پرشانت بھوشن نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایسے ووٹروں کو جہاں ضروری ہو فارم 8 کے ذریعے پتہ تبدیل کرنے یا ووٹر لسٹ میں متعلقہ تفصیلات درست کرنے کی سہولت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ جو افراد پہلے انیومریشن فارم جمع نہیں کرا سکے انہیں اب یہ فارم جمع کرانے کا موقع دیا جائے۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن ووٹروں پر حکام سے رجوع کرنے کی ذمہ داری ڈالنے کے بجائے خود ان سے رابطہ کرنے کے اقدامات کیوں نہیں کرتا۔جسٹس جوی مالیہ باگچی نے کہا کہ اگر 2026 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنایا جا رہا ہے تو عارضی طور پر منتقل ہونے والے یا کسی وجہ سے رابطے میں نہ آ سکنے والے افراد کو خودبخود نئے درخواست گزاروں کے زمرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔عدالت نے یہ تجویز بھی دی کہ خارج کیے گئے ووٹروں کی فہرست شائع کی جائے اور متعلقہ افراد کو اپنے قریبی بوتھ لیول آفیسر (BLO) سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی جائے، تاکہ وہ اپنی صورت حال کے مطابق ضروری فارم جمع کرا سکیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل داما شیشادری نائیڈو نے عدالت کو یقین دلایا کہ کمیشن ان اعتراضات کا جائزہ لے گا اور اصلاحی اقدامات پر غور کرے گا۔ انیومریشن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا امکان بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد کی جائے گی۔