نیتن یاہو کی پارٹی کو انتخابات میں شکست نظر آنے لگی

,

   

شام 6بجے تک ووٹنگ کا تناسب 66.7 فیصد، 1973ء کے بعد نیا ریکارڈ

تل ابیب ۔27؍اکتوبر ( ایجنسیز)اسرائیل میں جاری عام انتخابات کے دوران سیاسی تناؤ میں شدید اضافہ ہوگیا۔ موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت کو شکست نظر آنے لگی ہے جس کے بعد اس نے نیا منصوبہ تیار کرلیا۔ اسرائیلی میڈیا نے بینجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عرب اکثریتی علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ بدعنوانی اور جعلی ووٹنگ کے الزامات پر مبنی شکایات تیار کی جا رہی ہیں۔اس میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو کی پارٹی نے مبینہ طور پر ہزاروں متحرک کارکنوں کو ان علاقوں میں بھیجا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق لیکوڈ رہنماؤں کی اندرونی میٹنگس میں اس بات پر بات چیت کی گئی ہے کہ اگر نتائج نیتن یاہو کے خلاف آئے تو 2020ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے چلائی گئی ’انتخابات چوری ہو گئے‘ والی مہم کی طرز پر ردِعمل دیا جائے گا۔ادھر اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ عرب علاقوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے کوئی ثبوت موجود نہیں اور پولنگ کا عمل پہلے سے طے شدہ ضوابط کے تحت شفاف طریقے سے جاری ہے۔اسرائیل میں ووٹنگ کا تناسب 66.7 فیصد تک پہنچ گیا جو 1973ء کے بعد نیا ریکارڈ ہے۔شام 6 بجے تک رائے دہی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ، اسی وقت تک کا بلند ترین تناسب ہے۔رائے دہی میں اضافہ کو جاریہ اسرائیلی انتخابات کے دوران ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ووٹنگ کی حتمی شرح اور انتخابی نتائج کا اندازہ گنتی کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔