عصمت ریزی کے واقعات کے سدباب کیلئے عوام کو فارنسک طریقہ سے بیدار ہونے کا مشورہ
نئی دہلی ۔ 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمہ کے عالمی دن کے موقع پر عصمت ریزی کے واقعات کی روک تھام کیلئے دہلی پولیس اور ایمس نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کی مدد سے ڈی این اے کی تشخیص کو مزید آسان کردیا جائے گا۔ جنسی جرائم اور عصمت ریزی کے معاملات میں ہندوستانی نظام کو مستحکم کرنے اور عام عوام کے ڈی این اے فارنسک معائنوں میں اہم کردار کیلئے آگاہی مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے آغاز کے موقع پر اقوام متحدہ کی خاتون ہندوستان کی نائب کنٹری نمائندہ نشتھا ستیم نے کہا کہ ڈی این اے آپ کی انفرادی شناخت ہے جو آپ کے جسم کے ہر حصہ میں موجود ہوتی ہے۔ آپ کے ناخن، خون، جلد، پسینے اور یہاں تک کہ آپ کے لعاب میں بھی ڈی این اے موجود رہتا ہے۔ یہ ناممکن ہیکہ عصمت ریزی کے معاملہ میں ایک ملزم اپنے ڈی این اے کو ثبوت کے طور پر پیچھے نہیں چھوڑتا ہے۔ اس لئے ہمیں ضروری ہیکہ ان واقعات میں متاثرہ افراد ڈی این اے ٹسٹ کا مطالبہ کرنے کو غیراہم تصور نہ کریں۔ ہندوستان میں عصمت ریزی کے واقعات کے سدباب اور ملزموں کے خلاف ثبوت اکھٹا کرنے میں عوام کی شعور بیداری اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ایڈیشنل سالسیٹر جنرل انڈیا کی ڈاکٹر پنکی آنند نے کہا کہ ڈی این اے شواہد کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے بھی ڈی این اے بل پیش کیا ہے اور عصمت ریزی کے معاملات میں ڈی این اے کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عوام کو ڈی این اے شواہد کے تحفظ پر بہتر معلومات سے آراستہ کرنا عصمت ریزی سے بچ جانے والے ملزمین کے خلاف انصاف کی فراہمی کا راستہ نسبتاً آسان بنایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر دہلی پولیس کے ڈی سی پی سمن نالوا نے کہا کہ ناخوشگوار واقعہ کے بعد خوفزدہ اور غیرمحفوظ ہونے کے بجائے انصاف کیلئے دستیاب وسائل اور راستوں کو اختیار کرنا چاہئے جس سے نہ صرف دہلی بلکہ ہندوستان کا ہر کونا خواتین کیلئے محفوظ ہوسکتا ہے۔