Sunday , November 29 2020

دینی مدارس کی حفاظت، ملت اسلامیہ کی اہم ذمہ داری

مدرسہ دارالعلوم عربیہ کاؤرم پیٹھ کے سو سال!

ابوزھیرسیدزبیرھاشمی نظامی
کائنات کی ساری کامیابیاں علم و عمل میں ہیں ۔ لیکن ساری سعادتیں دینی علم اور عمل صالح میں ہیں۔ انسانی افراد کی کردار کے اعتبارسے تین حیثیتیں ہیں (۱) وہ جن کی حیثیت غذا جیسی (۲) وہ جن کی حیثیت دوا جیسی (۳) وہ جو بیماری جیسی کیفیت رکھتے ہیں۔
جس طرح غذا ہر انسان کے لئے ہر روز ضروری ہے اسی طرح غذا جیسی حیثیت والے افراد سے ربط ضروری ہے تاکہ باعزت اور کامیاب زندگی قائم ہو۔ دوا جیسی حیثیت والے افراد سے واقفیت ضرور ی ہے تاکہ بوقت ضرورت مستفید ہوسکے۔ بیماری جیسی حیثیت والوں سے احتیاط ہر دم ضروری ہے۔
شہر حیدرآباد سے اسی (۸۰) کیلومیٹر دور ایک قصبہ بنام ’’کاؤرم پیٹھ‘‘ میں حضرت الحاج محمد عبد ا لحق (۱۳۱۱ھ؁ تا ۱۳۶۸؁ ھ۔ ۱۸۹۱ ؁ء تا ۱۹۴۸؁ء) نور اﷲ مرقدہ بانی دارالعلوم عربیہ کاورم پیٹھ نصابی شاخ ازہرِ ہند جامعہ نظامیہ حیدرآباد تلنگانہ کی ہے ۔
تعلیم وتربیت کا عمل گزشتہ زمانے میںعبادت کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اور یہ حق بھی ہے کیونکہ مسلمانوں کا نصابِ تعلیم و تربیت شریفانہ انسانی تعلقات کے استحکام اور انسان کو اﷲ تعالیٰ سے جوڑنے کا ایک مضبوط ذریعہ تھا ۔ اس نصاب تعلیم سے سیاسی ثقافتی تمدنی اور عالمی پیمانہ پر تمام قوموں کے درمیان اعتماد و اعتبار کی فضا قائم ہواکرتی تھی ۔ اور ایسا نہیں ہوتا تھا کہ تعلیم اور ثقافت کے وسائل اور اس کے نظام کو ناپسندیدہ جذبات کے ابھارنے اور انتقام کی پیاس بجھانے کے لئے استعمال کیا گیا ہو ۔ اور نہ ہی تجارتی سامان کی طرح مارکٹنگ کیلئے استعمال کیا گیاہو ۔موجودہ دور کا یہ بڑا المیہ ہے کہ عصری مروجہ علوم اخلاقیات سے خالی اور شرف انسانیت سے محروم رہنے کے باوجود ان کو ناقص نہیں سمجھا جارہا ہے بلکہ لازم اور ضروری سمجھا جارہا ہے ۔ اور جو علوم انسان میں جذبہ عبودیت اور انسانیت پیدا کرنے والے ہیں یعنی دینی علوم کو ناقص سمجھارہا ہے ۔ اور دینی مدارس کے طلباء و عملہ کو نظروں سے گرایا جارہا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے والے پوری آبادی کا ۵ فیصد بھی نہیں جبکہ ۹۵ فیصد سے زائد مروجہ اخلاقیات سے خالی علوم حاصل کر رہے ہیں ۔ اندازہ کیجئے کہ ہمارے معاشرہ پر کس کا اثر غالب رہیگا اب فیصلہ کرلیجئے کہ ۵ فیصد کو بھی مروجہ عصری علوم حاصل کرنا ضروری ہے یا ۹۵ فیصد کو اخلاقیات و انسانیت پیدا کرنے والے اور مسلم شناخت برقرار رکھنے والے علم کو بھی حاصل کرنا ضروری ہے۔ موجودہ زندگی کے حساب اور جزا کے لئے عالَمِ آخرت میں جانا ہے مروجہ عصری علوم کے ذریعہ حاصل ہونے والے مال ، شہرت ، عہدہ کیا آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں کیونکہ یہ سب اسی دنیا میں رہ جائیں گے ۔
ایمان اور عمل صالح دنیا میں عزت ، برکت اور سکون کے ساتھ آخرت میں نجات کا ذریعہ ہیں ۔ اسی بامقصد اور لازمی تعلیم وُ تربیت کے لئے خصوصاً دیہات و قریہ جات کے باشندگان کو زیورِ علم سے آراستہ کرنے اور اعلیٰ دینی تعلیم کی شاہراہ پر ڈالنے کے لئے مسلم دور حکمرانی میں قصبہ کاورم پیٹھ میں ایک مرکز بہ نام دارالعلوم عربیہ کاورم پیٹھ ( ضلع محبوب نگر ، ریاست تلنگانہ) اقامتی ادارہ ۱۳۴۲؁ ھ م ۱۹۲۴ء؁ میں قائم کرکے اعلی تعلیم کے حصول کے لئے جامعہ نظامیہ حیدرآباد سے الحاق کئے۔ جو الحمد ﷲ اپنے مقصدِ قیام میں سو(۱۰۰) سال مکمل کرتے ہوئے، کامیابی کے ذریعہ، مشائخ اور مشاہرِ قوم کا اعتماد حاصل کرچکا ۔
مسلمان کا مقصدِ زندگی اور اس کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ وہ انسانوں کو مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالقِ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت و پرستش پر آمادہ کرے ۔ اور دین اسلام کوئی فرسودہ خیالات کا مجموعہ اور عصرِحاضر کے تقاضوں کی تکمیل سے عاجز و قاصر نظام نہیں ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کی تربیت اس انداز سے کریں کہ اس کا سینہ عقیدۂ توحید سے معمور اور اس کا قلب نورِ ایمان سے منور اور سوزِ عشق سے مخمور اور دینِ اسلام پر فخر سے بھر پور رہے ۔
اسلامی معاشرہ میں اس وقت انفرادی وُ اجتماعی حیثیت سے لوگوں کے دلوں میں شکوک وُ شبہات کے بیج بوئے جارہے ہیں تاکہ اسلامی نظامِ حیات کو فرسودہ اور صلاحیت کھوچکا مذہب باور کرلیں اور جارحانہ حملہ تعلیمی اداروں پر لازم کیا جارہاہے ۔
دینداری اور دینی مدارس کے اثرات ختم کرنا اور ہر ملک کے تعلیمی نصاب میں تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ سازشوںسے گھری اس امت مسلمہ کی بھر پور رہنمائی علماء اور مدارس کی ذمہ داری ہے ۔دورِ حاضر کا بڑا فتنہ جدید علوم ، جدید نظریات ، جدید وسائل کا مخالف دینی علوم وُ تربیت کیلئے بھر پور استعمال ہے بلکہ تاریخ ادب معاشیات کے ذریعہ بھی دین بیزاری اورشکوک و شبہات پیداکرنا آج کے دانشوروں کا محبوب مشغلہ ہے ۔
دینی تعلیم و تربیت کا نظام مشکوک یا مفلوج ہوجائے تو ارتداد پھیل جائے گا۔جیساکہ بعض سابق مسلم علاقوں کا نقشہ موجود ہے۔ عقائد میں رواداری کی گنجائش ہر گزنہیں۔ لیکن دین کے فروعی معاملات اور اخلاقیات میں رواداری اور آپسی اتحاد سے کام لینا چاہئے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اہل اﷲ کے ساتھ رابطے میں رہنا۔ اور ایمان کو اتنا مضبوط بنانا کہ کوئی اسے ختم نہ کرسکے۔ اﷲ رب العزت ملت اسلامیہ کی حفاظت فرمائے ۔ اٰمین
zubairhashmi7@mail.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT