سست روی اور دیگر مسائل ،ملک کو ایک نئے معاشی بحران کا اندیشہ
حیدرآباد۔4اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں ڈیولپرس کی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے جو کہ ملک کی معیشت کو مزید تباہ کن بنا سکتی ہے ۔ ملک بھر میں دیوالیہ کا اعلان کرنے والے بلڈرس اور ڈیولپرس کی تعداد سال گذشتہ سے دوگنی ہوچکی ہے ۔سال 2018 ستمبر تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو دیوالیہ کا اعلان کرتے ہوئے کورٹ سے رجوع ہونے والے ڈیولپرس کی تعداد 209 تھی اور جاریہ سال جون تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیاجائے تو ان مقدمات کی تعداد بڑھ کر 421تک پہنچ چکی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں عام آدمی کی معیشت کس قدر بحران کا شکار ہے اور اگر اس صورتحال میں رئیل اسٹیٹ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جانے والے بلڈرس اور ڈیولپرس کی جانب سے دیوالیہ کا اعلان کیا جانے لگے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ملک کی معیشت پر نئے بحران کے خطرات منڈلارہے ہیں کیونکہ کئی بلڈرس کی جانب سے ملک کے کئی بینکوں سے کروڑہا روپئے قرض لیا گیا ہے۔