دیوالی پر گھر واپسی کا سفر ہوا محال، خانگی بس آپریٹرز کی زبردست کمائی

   

کانپور، 6 نومبر (یو این آئی) پانچ روزہ دیوالی کا تہوار خاندان کے ساتھ منانے کی خواہش میں سفر کی مشکلات رکاوٹ بن رہی ہیں۔ دہلی، نوئیڈا، گروگرام سمیت دیگر شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جانے والے لوگوں کے لیے ریل اور بس کا سفر خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے ۔ ریلوے نے تہواروں کے موسم میں عام ٹرینوں کے علاوہ کئی خصوصی ٹرینیں بھی چلائی ہیں، لیکن ہزاروں مسافروں کی بھیڑ کے سامنے ریلوے کے یہ انتظامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ٹرینوں میں ریزرویشن نہ ملنے سے مایوس مسافر بسوں کا رخ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بسیں بھی کھچا کھچ بھر کر چل رہی ہیں اور ہزاروں مسافروں کو سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کھڑے کھڑے طے کرنا پڑ رہا ہے ۔ شتابدی، راجدھانی، وندے بھارت اور تیجس جیسی چند خصوصی ٹرینوں کو چھوڑ کر دیگر ٹرینوں کے محفوظ ڈبوں میں بھی مسافر عام درجے کا ٹکٹ لے کر سفر کر رہے ہیں، کیونکہ ہر کسی کو جلد از جلد گھر پہنچنے کی جلدی ہے ۔ حالانکہ اس کی وجہ سے کئی ماہ پہلے اپنی نشست محفوظ کرا چکے مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مسافروں سے کھچا کھچ بھرے ڈبوں میں ٹکٹ جانچنے والے عملے نے بھی انتظامات کو رام بھروسے چھوڑ رکھا ہے ۔ ایسے میں اے سی ڈبوں پر بھی بھیڑ نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ ریلوے پلیٹ فارموں پر جی آر پی اور آر پی ایف کے جوان مسافروں کی بھیڑ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے ۔ مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے میں خانگی بس آپریٹرز بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ عام دنوں میں دہلی سے کانپور تک ایک نشست کا کرایہ عموماً 450 روپے ہوتا ہے ، جبکہ سونے کی جگہ 700 سے 800 روپے میں مل جاتی ہے ، لیکن آج ایک نشست کا کرایہ 2500 روپے تک اور سونے کی جگہ 5000 روپے تک بھی بڑی مشکل سے مل رہی ہے۔
انٹر سٹی، شتابدی، کلپنا ٹریولس سمیت کئی بس آپریٹرز نے زیادہ مسافروں والے راستوں پر اپنی بسوں کے قافلے اتار دیے ہیں۔