راجستھان : ضرورت پڑنے پر وزیراعظم کی قیامگاہ کا گھیراؤکریں گے ، گہلوٹ کا بیان

,

   

سی ایل پی کی میٹنگ سے چیف منسٹر کا خطاب ۔ صدر جمہوریہ سے ملاقات کا بھی ارادہ ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرس میں کانگریس کا بی جے پی کے خلاف احتجاج
جے پور: راجستھان میں اسمبلی اجلاس بلانے کے معاملے پر سیاست میں گہما گہمی تیز ہوگئی ہے ۔ چیف منسٹر اشوک گہلوٹ نے ہفتہ کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو کانگریس کے ارکان اسمبلی صدر جمہوریہ سے ملاقات کریں گے اور ریاست کے بحران کی یکسوئی کے لیے وزیراعظم کی قیام گاہ کے باہر دھرنا دیں گے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق گہلوٹ نے سی ایل پی میٹنگ سے خطاب میں یہ بات کہی ۔ یہ میٹنگ اس ہوٹل میں منعقد ہوئی جہاں ان کے وفادار ایم ایل ایز مقیم ہیں ۔ انہوں نے ایم ایل ایز کو یہ بھی بتایا کہ ان کو مزید کچھ عرصہ اس طرح قیام کرنا پڑ سکتا ہے ۔ جمعہ کے روز وزیر اعلی اشوک گہلوٹ کی قیادت میں راج بھون میں دھرنے کے سبب گورنر نے کابینہ کے اجلاس میں کچھ نکات پر وضاحت ملنے کے بعد اسمبلی اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے بعد رات گئے تک کابینہ کی میٹنگ ہوئی جس میں چھ نکات پر تبادلہ خیال کے بعد قرارداد تیار کی گئی ۔ یہ قرارداد آج گورنر کو ارسال کی گئی ۔ ادھر کانگریس نے آج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں مظاہرہ کیا ۔ اسمبلی اسپیکر کی جانب سے وہپ کی خلاف ورزی کرنے پر 19 ایم ایل ایزکو دیئے گئے نوٹس پر حکم التواء کے بعد اس مسئلہ پر 27 جولائی کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ بی جے پی نے اب کانگریس کو کھل کرجواب دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ کانگریس میں داخلی لڑائی کا الزام اپوزیشن پر عائد کیا جارہا ہے جبکہ کانگریس نے ایم ایل ایز کی خریداری میں شامل مرکزی وزیر گجندرسین شیخاوت کا نام لیا ہے ۔ اس کے علاوہ وزیر اعلی اشوک گہلوٹ کے لوگوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سنٹرل انویسٹی گیشن کے لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے ۔ کانگریس نے اپنے ارکان اسمبلی کو فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا ہوا ہے ، جس پر بی جے پی نے اعتراض کیا ہے ۔ ادھر کانگریس کے برطرف 19 ایم ایل ایز نے بھی یرغمال بننے سے انکار کردیا ہے ۔ کانگریس اکثریت حاصل ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے ، جس پر گورنر کا کہنا ہے اگر کانگریس کے پاس اکثریت ہے تو پھر سیشن طلب کرنے کی ضرورت کیا ہے ۔ گورنر نے جن چھ نکات پر کابینہ کی رائے جاننے کی بات کہی تھی اس میں سیشن بلانے کی تاریخ ، مختصر نوٹس پر اجلاس طلب کرنے کا جواز ، ارکان اسمبلی کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانا اورکوروناوائرس کے پیش نظر اجلاس طلب کرنے جیسے ضروری انتظامات کے نکات شامل ہیں۔بی جے پی نے ریاست کے بحران کے لیے کانگریس کی گہلوٹ حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔