حیدرآباد 21 جنوری (سیاست نیوز) دستاویزی فلم ’رام کے نام‘ کی 20 جنوری کو سینک پوری حیدرآباد میں نمائش میں دائیں بازو کے جہدکاروں نے خلل اندازی کی۔ یہ واقعہ ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح سے دو دن قبل پیش آیا۔ اس فلم کی نمائش کا اہتمام فلموں میں دلچسپی رکھنے والے ایک گروپ، حیدرآباد سنیفائیلس کی جانب سے کیا گیا تھا۔ گڑبڑ کے بعد پولیس اس مقام پر پہنچی اور تین اشخاص کو گرفتار کیا۔ ان میں دو آنند سنگھ اور پراگ ورما حیدرآباد سنیفائیلس کے ارکان ہیں اور ایک شخص کیفے مالک سروجان ہے۔ وشوا ہندو پریشد کے ایک ممبر اتھویک پانڈرنگی کی جانب سے شکایت درج کروانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی جس میں انھوں نے دعویٰ کیاکہ رام مندر کے افتتاح سے عین قبل اس دستاویزی فلم کی نمائش کرنے کا مقصد فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا کرنا ہے۔ پولیس نے اس سلسلہ میں تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت ایک کیس رجسٹر کیا۔ سیاست ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے نریڈمیڈ پولیس نے کہاکہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور آرگنائزرس کو حراست میں لیا گیا ہے۔