رانا سانگا سے متعلق بیان پر اب بھی قائم ہوں: رام جی سمن

   

گھر پر حملہ کے بعد سیکوریٹی فراہم کرنے کا مطالبہ‘راجیہ سبھا چیئرمین کومکتوب

لکھنؤ:سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن کے راجیہ سبھا میں رانا سانگا سے متعلق دیے گئے بیان پر تنازعہ کافی بڑھ گیا ہے۔ اب رام جی لال سمن نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر اپنی سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ گزشتہ روز کرنی سینا کے ذریعہ ان کی رہائش پر کیے گئے حملہ کے بعد کیا گیا ہے۔ رام جی لال نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں نے جو کہا تھا وہ تلخ حقیقت ہے۔ تاریخ کا حصہ ہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اپنے بیان پر اب بھی قائم ہیںکیونکہ بابر کو رانا سانگا ہی ہندوستان لے کر آیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ 26 مارچ کو کرنی سینا کے کارکنوں نے آگرہ میں واقع رام جی لال کے گھر پر حملہ کر دیا تھا۔ وہ بلڈوزر لے کر رام جی لال کی رہائش پر پہنچ گئے تھے اور کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔ پولیس نے انھیں روکا اور دونوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ اس تصادم میں کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔ کرنی سینا کے اس حملہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے رام جی سمن نے کہا کہ سب کچھ منصوبہ بند تھا۔اس حملے کے بعد سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے رام جی لال سمن کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رام جی لال ایک دلت ہیں اور یہ حملہ ایک دلت پر کیا گیا حملہ ہے۔ رام جی لال سمن کے گھر پر حملہ کی خبر ملنے کے بعد سماجوادی پارٹی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو 27 مارچ کو آگرہ میں واقع رام جی لال کے گھر پہنچے۔ وہاں انھوں نے رام جی لال کے گھر والوں سے ملاقات کی اور حالات کا جائزہ بھی لیا۔اس درمیان علی گڑھ میں آل انڈیا کرنی سینا کے ریاستی صدر گیایندر سنگھ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ وہ سماجوادی پارٹی دفتر کا گھیراؤکرنے جا رہے تھے لیکن ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ بنّادیوی تھانہ علاقہ کے آئی ٹی آئی روڈ پر انھیں نظر بند کیا گیا ہے۔